تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الأعراف (7) — آیت 111

قَالُوۡۤا اَرۡجِہۡ وَ اَخَاہُ وَ اَرۡسِلۡ فِی الۡمَدَآئِنِ حٰشِرِیۡنَ ﴿۱۱۱﴾ۙ
انھوں نے کہا اسے اور اس کے بھائی کو مؤخر رکھ اور شہروں میں جمع کرنے والے بھیج دے۔ En
انہوں نے (فرعون سے) کہا کہ فی الحال موسیٰ اور اس کے بھائی کے معاملے کو معاف رکھیے اور شہروں میں نقیب روانہ کر دیجیے
En
انہوں نے کہا کہ آپ ان کو اور ان کے بھائی کو مہلت دیجئے اور شہروں میں ہرکاروں کو بھیج دیجئے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

تب وہ ایک رائے پر متفق ہوئے اور انھوں نے فرعون سے کہا ﴿ اَرْجِهْ وَاَخَاهُ (فی الحال) موسیٰ علیہ السلام اور اس کے بھائی کے معاملے کو معاف رکھیے۔ یعنی دونوں بھائیوں کو روک کر ان کو مہلت دو اور تمام شہروں میں ہرکارے دوڑا دو جو مملکت کے لوگوں کو اکٹھا کریں اور تمام ماہر جادوگروں کو لے آئیں تاکہ وہ موسیٰ علیہ السلام کے معجزات کا مقابلہ کر سکیں، چنانچہ انھوں نے موسیٰ علیہ السلام سے کہا ہمارے اور اپنے درمیان ایک وقت مقرر کر لو، نہ ہم اس کی خلاف ورزی کریں گے نہ تم اس کے خلاف کرو گے اور یہ مقابلہ ایک ہموار میدان میں ہوگا۔موسیٰ علیہ السلام نے جواب میں فرمایا: ﴿ مَوْعِدُؔكُمْ یَوْمُ الزِّیْنَةِ وَاَنْ یُّحْشَرَ النَّاسُ ضُحًى ۰۰ فَتَوَلّٰى فِرْعَوْنُ فَ٘جَمَعَ كَیْدَهٗ ثُمَّ اَتٰى (طٰہ: 20؍59۔60)تمھارے لیے مقابلے کا دن عید کا روز مقرر ہے اور یہ کہ تمام لوگ چاشت کے وقت اکٹھے ہو جائیں۔ فرعون لوٹ گیا۔ اس نے اپنی تمام چالیں جمع کیں پھر مقابلے کے لیے آ گیا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

فحينئذ انعقد رأيهم إلى أن قالوا لفرعون: {أرْجِهِ وأخاه}؛ أي: احبسهما وأمهلهما، وابعثْ في المدائن أناساً يحشُرون أهل المملكة ويأتون بكل سَحَّارٍ عليم؛ أي: يجيئون بالسحرة المهرة؛ ليقابلوا ما جاء به موسى، فقالوا: يا موسى {اجعلْ بيننا وبينَكَ موعداً لا نُخْلِفُهُ نحن ولا أنت مكاناً سُوىً. قال موعِدْكم يومُ الزينةِ وأن يُحْشَرَ الناس ضحىً. فتولَّى فرعونُ فجمَعَ كيدَه ثم أتى}.