تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الأعراف (7) — آیت 110

یُّرِیۡدُ اَنۡ یُّخۡرِجَکُمۡ مِّنۡ اَرۡضِکُمۡ ۚ فَمَا ذَا تَاۡمُرُوۡنَ ﴿۱۱۰﴾
جو چاہتا ہے کہ تمھیں تمھاری سر زمین سے نکال دے، تو تم کیا حکم دیتے ہو؟ En
اس کا ارادہ یہ ہے کہ تم کو تمہارے ملک سے نکال دے۔ بھلا تمہاری کیا صلاح ہے؟
En
یہ چاہتا ہے کہ تم کو تمہاری سرزمین سے باہر کر دے سو تم لوگ کیا مشوره دیتے ہو En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

پھر وہ کمزور عقل اور کم فہم لوگوں کو ڈراتے ہوئے کہنے لگے ﴿ یُّرِیْدُ یعنی اس فعل سے موسیٰ علیہ السلام کا ارادہ ہے ﴿ اَنْ یُّخْرِجَكُمْ مِّنْ اَرْضِكُمْ کہ وہ تمھیں تمھارے وطن سے نکال باہر کرے۔ ﴿فَمَاذَا تَاْمُرُوْنَ اب تمھاری کیا صلاح ہے یعنی انھوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ کیسے نبٹا جائے اور ان کے زعم کے مطابق موسیٰ کے ضرر سے کیسے بچا جائے۔ کیونکہ موسیٰ علیہ السلام جو کچھ لے کر آئے ہیں اگر اس کا مقابلہ کسی ایسی چیز سے نہ کیا جائے جو اسے باطل اور بے اثر کر دے تو موسیٰ کے معجزات عوام میں سے اکثر لوگوں کے ذہنوں کو متاثر کریں گے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ثم خوَّفوا ضعفاءَ الأحلام وسفهاء العقول بأنه {يريدُ} موسى بفعلِهِ هذا {أن يخرِجَكم من أرضكم}؛ أي: يريد أن يجليكم من أوطانكم، {فماذا تأمرونَ}؟ أي: إنهم تشاوروا فيما بينهم ما يفعلون بموسى، وما يندفع به ضررهم بزعمهم عنهم؛ فإنَّ ما جاء به إن لم يقابَلْ بما يبطِلُه ويدحضه، وإلا؛ دخل في عقول أكثر الناس.