تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الأعراف (7) — آیت 109

قَالَ الۡمَلَاُ مِنۡ قَوۡمِ فِرۡعَوۡنَ اِنَّ ہٰذَا لَسٰحِرٌ عَلِیۡمٌ ﴿۱۰۹﴾ۙ
فرعون کی قوم کے سرداروں نے کہا یقینا یہ تو ایک ماہر فن جادوگر ہے۔ En
تو قوم فرعون میں جو سردار تھے وہ کہنے لگے کہ یہ بڑا علامہ جادوگر ہے
En
قوم فرعون میں جو سردار لوگ تھے انہوں نے کہا کہ واقعی یہ شخص بڑا ماہر جادوگر ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

مگر وہ لوگ جو ایمان نہیں لاتے اگر ان کے پاس تمام معجزات آجائیں وہ تب بھی ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ وہ دردناک عذاب نہ دیکھ لیں۔ بنابریں ﴿قَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِ فِرْعَوْنَ قوم فرعون کے جو سردار تھے وہ کہنے لگے۔ یعنی جب انھوں نے معجزات کو دیکھا اور ان معجزات نے ان کو مبہوت کر دیا تو وہ ایمان نہ لائے وہ معجزات کے لیے فاسد تاویلات تلاش کرنے لگے اور بولے ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَسٰحِرٌ عَلِیْمٌ یہ بڑا ماہر جادوگر ہے۔ یعنی یہ اپنے جادو میں بہت ماہر ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ولكن الذين لا يؤمنون لو جاءتهم كلُّ آيةٍ لا يؤمنون حتى يروا العذاب الأليم؛ فلهذا {قال الملأ من قوم فرعون} حين بهرهم ما رأوا من الآيات ولم يؤمنوا وطلبوا لها التأويلات الفاسدة: {إنَّ هذا لساحرٌ عليمٌ}؛ أي: ماهرٌ في سحره.