تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الأعراف (7) — آیت 11

وَ لَقَدۡ خَلَقۡنٰکُمۡ ثُمَّ صَوَّرۡنٰکُمۡ ثُمَّ قُلۡنَا لِلۡمَلٰٓئِکَۃِ اسۡجُدُوۡا لِاٰدَمَ ٭ۖ فَسَجَدُوۡۤا اِلَّاۤ اِبۡلِیۡسَ ؕ لَمۡ یَکُنۡ مِّنَ السّٰجِدِیۡنَ ﴿۱۱﴾
اور بلاشبہ یقینا ہم نے تمھارا خاکہ بنایا، پھر ہم نے تمھاری صورت بنائی، پھر ہم نے فرشتوں سے کہا آدم کو سجدہ کرو تو انھوں نے سجدہ کیا مگر ابلیس، وہ سجدہ کرنے والوں سے نہ ہوا۔ En
اور ہم ہی نے تم کو (ابتدا میں مٹی سے) پیدا کیا پھر تمہاری صورت شکل بنائی پھر فرشتوں کو حکم دیا آدم کے آگے سجدہ کرو تو (سب نے) سجدہ کیا لیکن ابلیس کہ وہ سجدہ کرنے والوں میں (شامل) نہ ہوا
En
اور ہم نے تم کو پیدا کیا، پھر ہم ہی نے تمہاری صورت بنائی پھر ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدم کو سجده کرو سو سب نے سجده کیا بجز ابلیس کے، وه سجده کرنے والوں میں شامل نہ ہوا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ بنی آدم سے مخاطب ہو کر فرماتا ہے ﴿ وَلَقَدْ خَلَقْنٰكُمْ اور ہم نے تمھیں پیدا کیا یعنی تمھارے جد امجد آدم کی اصل اور اس کے مادے کی تخلیق کی، جس سے تم سب نکلے ہو ﴿ ثُمَّ صَوَّرْنٰكُمْ پھر تمھاری صورت شکل بنائی۔ پھر ہم نے تمھیں بہترین صورت اور بہترین قامت عطا کی، پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے آدم کو تمام چیزوں کے نام سکھائے جس سے اس کی باطنی صورت کی تکمیل ہوئی، پھر باعزت فرشتوں کو حکم دیا کہ وہ آدم کے اکرام و احترام اور اس کی فضیلت کے اعتراف کے طور پر اسے سجدہ کریں، چنانچہ انھوں نے اپنے رب کے حکم کی تعمیل کی ﴿فَسَجَدُوْۤا پس انھوں نے سجدہ کیا۔ یعنی تمام فرشتوں نے سجدہ کیا ﴿ اِلَّاۤ اِبْلِیْسَ مگر ابلیس نے تکبر اور خود پسندی کی بنا پر سجدہ کرنے سے انکار کر دیا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يقول تعالى مخاطباً لبني آدم: {ولقد خَلَقْناكم}: بخلق أصلِكم ومادَّتكم التي منها خرجتُم؛ أبيكم آدم عليه السلام، {ثم صوَّرْناكم}: في أحسن صورة وأحسن تقويم، وعلَّمه [اللهُ] تعالى ما به تكمُلُ صورتُه الباطنةُ؛ أسماءَ كل شيء، ثم أمر الملائكة الكرام أن يسجُدوا لآدم إكراماً واحتراماً وإظهاراً لفضلِهِ، فامتثلوا أمر ربهم، {فَسَجدوا} كلُّهم أجمعون {إلا إبليس}: أبى أن يسجدَ له تكبُّراً عليه وإعجاباً بنفسه.