تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الحاقة (69) — آیت 9

وَ جَآءَ فِرۡعَوۡنُ وَ مَنۡ قَبۡلَہٗ وَ الۡمُؤۡتَفِکٰتُ بِالۡخَاطِئَۃِ ۚ﴿۹﴾
اور فرعون نے اور اس سے پہلے لوگوں نے اور الٹ جانے والی بستیوں نے گناہ کا ارتکاب کیا۔ En
اور فرعون اور جو لوگ اس سے پہلے تھے اور وہ جو الٹی بستیوں میں رہتے تھے سب گناہ کے کام کرتے تھے
En
فرعون اور اس سے پہلے کے لوگ اور جن کی بستیاں الٹ دی گئی، انہوں نے بھی خطائیں کیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اسی طرح ان دو سرکش قوموں، عاد و ثمود کے علاوہ بھی سرکش اور نافرمان لوگ آئے، جیسے فرعون مصر جس کی طرف اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے اور رسول حضرت موسیٰ بن عمران علیہ السلام کو مبعوث کیا اور انھیں واضح نشانیاں دکھائیں جن کی بنا پر انھیں حق کا یقین آ گیا مگر انھوں نے ظلم اور تکبر سے ان کار کر دیا اور کفر کا رویہ اختیار کیا، اور اس سے پہلے بھی جھٹلانے والے آئے۔ ﴿ وَالْمُؤْتَفِكٰتُ اور الٹی ہوئی بستیوں والے۔ یعنی حضرت لوط علیہ السلام کی قوم کی بستیاں، سب گناہ کا کام کرتے تھے ﴿ بِالْخَاطِئَةِ یعنی سرکشی کے افعال کرتے تھے، اس سے مراد کفر، تکذیب، ظلم اور عناد ہے، نیز فسق و معاصی کی دیگر اقسام بھی اس میں شامل ہے۔ ﴿ فَعَصَوْا رَسُوْلَ رَبِّهِمْ یہ اسم جنس ہے، یعنی ان تمام قوموں نے اپنے رسول کو جھٹلایا جو ان کی طرف بھیجا گیا تھا۔ ﴿ فَاَخَذَهُمْ پس اللہ تعالیٰ نے ان سب کو پکڑ لیا ﴿ اَخْذَةً رَّابِیَةً یعنی حد اور مقدار سے بڑھ کر ان کی گرفت کی جس سے وہ تباہ و برباد ہو گئے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أي: وكذلك غير هاتين الأمَّتين الطاغيتين عاد وثمود جاء غيرهم من الطُّغاة العتاة؛ كفرعون مصر الذي أرسل الله إليه عبده ورسوله موسى بن عمران عليه الصلاة والسلام، وأراهم من الآيات البيِّنات ما تيقَّنوا بها الحقَّ، ولكن جحدوا وكفروا ظلماً وعلوًّا، وجاء من قبله من المكذِّبين {والمؤتفكات}؛ أي: قرى قوم لوطٍ؛ الجميع جاؤوا {بالخاطئة}؛ أي: بالفعلة الطاغية، وهو الكفر والتكذيب والظُّلم والمعاندة وما انضمَّ إلى ذلك من أنواع المعاصي والفسوق، {فعصَوْا رسولَ ربِّهم}: وهذا اسم جنس؛ أي: كلٌّ من هؤلاء كذَّبوا الرسول الذي أرسله الله إليهم ؛ فأخذ اللهُ الجميع {أخذةً رابيةً}؛ أي: زائدة على الحدِّ والمقدار الذي يحصُلُ به هلاكهم.