ترجمہ و تفسیر — سورۃ الحاقة (69) — آیت 9

وَ جَآءَ فِرۡعَوۡنُ وَ مَنۡ قَبۡلَہٗ وَ الۡمُؤۡتَفِکٰتُ بِالۡخَاطِئَۃِ ۚ﴿۹﴾
اور فرعون نے اور اس سے پہلے لوگوں نے اور الٹ جانے والی بستیوں نے گناہ کا ارتکاب کیا۔ En
اور فرعون اور جو لوگ اس سے پہلے تھے اور وہ جو الٹی بستیوں میں رہتے تھے سب گناہ کے کام کرتے تھے
En
فرعون اور اس سے پہلے کے لوگ اور جن کی بستیاں الٹ دی گئی، انہوں نے بھی خطائیں کیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 10،9) {وَ جَآءَ فِرْعَوْنُ وَ مَنْ قَبْلَهٗ …: الْمُؤْتَفِكٰتُ اِئْتَكَفَ} (افتعال) سے اسم فاعل ہے اور محذوف لفظ {اَلْقُرٰي} (بستیوں) کی صفت ہے، یعنی الٹ جانے والی بستیاں۔ مراد لوط علیہ السلام کی قوم کی بستیاں ہیں جن کا اوپر کا حصہ نیچے اور نیچے کا اوپر کر دیا گیا اور پھر ان پر کھنگر کے پتھروں کی بارش برسا دی گئی۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ ہود (۷۷ تا ۸۳) اور سورۂ حجر (۶۱تا۷۴)۔ {اَلْخَاطِئَةُ عَافِيَهٌ} کے وزن پر مصدر ہے، گناہ، خطا۔ { رَابِيَةً رَبَا يَرْبُوْ} (ن) (زیادہ ہونا، بڑھنا) سے اسم فاعل ہے، یعنی وہ گرفت اپنی شدت میں دوسری گرفتوں سے بہت بڑھی ہوئی تھی، یعنی فرعون نے اور اس سے پہلے کے لوگوں نے اور قوم لوط نے گناہ کا ارتکاب کیا تو اللہ تعالیٰ نے انھیں اپنی سخت گرفت میں پکڑ لیا۔ گناہ کیا تھا؟ یہ کہ { فَعَصَوْا رَسُوْلَ رَبِّهِمْ } انھوں نے اپنے رب کے رسول کی نافرمانی کری۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

9۔ 1 اس سے قوم لوط مراد ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

9۔ اور فرعون [7] اور جو لوگ اس سے پہلے تھے اور جو الٹائی ہوئی بستیوں میں رہتے تھے سب گناہ کے کام کرتے تھے۔
[7] قوم عاد نے تو یہ نعرہ لگایا تھا کہ ﴿مَنْ اَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً اور فرعون وہ تھا جس نے ﴿اَنَا رَبُّكُمُ الْاَعْلٰي کا نعرہ لگایا تھا۔ فرعون اور آل فرعون کو اللہ نے سمندر میں ڈبو دیا تو اس وقت اسے معلوم ہو گیا تھا کہ وہ اپنے خدائی کے دعوے میں کس حد تک سچا تھا اور آج کس قدر مجبور ہے۔ فرعون کی قوم کے علاوہ بھی کئی قوموں نے آخرت کے عقیدہ سے انکار کیا۔ پھر سرکشی کی راہ اختیار کی تو نتیجتاً انہیں بھی تباہ و برباد کر دیا گیا۔ ان سب قوموں میں سے کوئی ایک شخص بھی زندہ نہ بچا۔ سب کے سب ہلاک کر دیئے گئے۔ اور ان سب کا سب سے بڑا گناہ جو ان میں قدر مشترک کے طور پر پایا جاتا تھا، یہ تھا کہ انہوں نے سرے سے رسولوں کو اور اللہ کی آیات کو جھٹلا دیا تھا۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اسی طرح ان دو سرکش قوموں، عاد و ثمود کے علاوہ بھی سرکش اور نافرمان لوگ آئے، جیسے فرعون مصر جس کی طرف اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے اور رسول حضرت موسیٰ بن عمران علیہ السلام کو مبعوث کیا اور انھیں واضح نشانیاں دکھائیں جن کی بنا پر انھیں حق کا یقین آ گیا مگر انھوں نے ظلم اور تکبر سے ان کار کر دیا اور کفر کا رویہ اختیار کیا، اور اس سے پہلے بھی جھٹلانے والے آئے۔ ﴿ وَالْمُؤْتَفِكٰتُ اور الٹی ہوئی بستیوں والے۔ یعنی حضرت لوط علیہ السلام کی قوم کی بستیاں، سب گناہ کا کام کرتے تھے ﴿ بِالْخَاطِئَةِ یعنی سرکشی کے افعال کرتے تھے، اس سے مراد کفر، تکذیب، ظلم اور عناد ہے، نیز فسق و معاصی کی دیگر اقسام بھی اس میں شامل ہے۔ ﴿ فَعَصَوْا رَسُوْلَ رَبِّهِمْ یہ اسم جنس ہے، یعنی ان تمام قوموں نے اپنے رسول کو جھٹلایا جو ان کی طرف بھیجا گیا تھا۔ ﴿ فَاَخَذَهُمْ پس اللہ تعالیٰ نے ان سب کو پکڑ لیا ﴿ اَخْذَةً رَّابِیَةً یعنی حد اور مقدار سے بڑھ کر ان کی گرفت کی جس سے وہ تباہ و برباد ہو گئے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أي: وكذلك غير هاتين الأمَّتين الطاغيتين عاد وثمود جاء غيرهم من الطُّغاة العتاة؛ كفرعون مصر الذي أرسل الله إليه عبده ورسوله موسى بن عمران عليه الصلاة والسلام، وأراهم من الآيات البيِّنات ما تيقَّنوا بها الحقَّ، ولكن جحدوا وكفروا ظلماً وعلوًّا، وجاء من قبله من المكذِّبين {والمؤتفكات}؛ أي: قرى قوم لوطٍ؛ الجميع جاؤوا {بالخاطئة}؛ أي: بالفعلة الطاغية، وهو الكفر والتكذيب والظُّلم والمعاندة وما انضمَّ إلى ذلك من أنواع المعاصي والفسوق، {فعصَوْا رسولَ ربِّهم}: وهذا اسم جنس؛ أي: كلٌّ من هؤلاء كذَّبوا الرسول الذي أرسله الله إليهم ؛ فأخذ اللهُ الجميع {أخذةً رابيةً}؛ أي: زائدة على الحدِّ والمقدار الذي يحصُلُ به هلاكهم.