اس نے اسے ان پر سات راتیں اور آٹھ دن مسلسل چلائے رکھا۔ سو تو ان لوگوں کو اس میں اس طرح (زمین پر) گرے ہوئے دیکھے گا جیسے وہ گری ہوئی کھجوروں کے تنے ہوں۔
En
خدا نے اس کو سات رات اور آٹھ دن لگاتار ان پر چلائے رکھا تو (اے مخاطب) تو لوگوں کو اس میں (اس طرح) ڈھئے (اور مرے) پڑے دیکھے جیسے کھجوروں کے کھوکھلے تنے
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ سَخَّرَهَاعَلَیْهِمْسَبْعَلَیَالٍوَّثَمٰنِیَةَاَیَّامٍ١ۙحُسُوْمًا ﴾”اس نے اس کو سات رات اور آٹھ دن لگاتار ان پر چلائے رکھا۔“ یعنی یہ ایام نہایت منحوس، برے اور ان کے لیے انتہائی سخت تھے، اس ہوا نے ان کو تباہ و برباد کر کے ہلاک کر ڈالا ﴿ فَتَرَىالْقَوْمَفِیْهَاصَرْعٰى ﴾ یعنی آپ دیکھتے ہیں کہ وہ لوگ ہلاک ہو کر مردہ پڑے ہیں ﴿ كَاَنَّهُمْاَعْجَازُنَخْلٍخَاوِیَةٍ﴾ یعنی گویا کہ وہ کھجوروں کے کھوکھلے تنے ہیں جن کے سروں کو کاٹ دیا گیا ہے اور وہ ایک دوسرے پر گرے پڑے ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{سخَّرَها عليهم سبعَ ليال وثمانية أيَّام حسوماً}؛ أي: نحساً وشرًّا فظيعاً عليهم فدمَّرتهم وأهلكتهم؛ {فترى القومَ فيها صَرْعى}؛ أي: هَلكى موتى، {كأنَّهم أعجازُ نخلٍ خاويةٍ}؛ أي: كأنهم جذوعُ النخل التي قد قُطِّعت رؤوسها الخاوية الساقط بعضها على بعض.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔