تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ وَاَمَّاعَادٌفَاُهْلِكُوْابِرِیْحٍصَرْصَرٍ ﴾”اور رہے عاد تو انھیں نہایت تیز آندھی سے ہلاک کردیا گیا۔“ یعنی بہت طاقت ور اور طوفانی ہوا جس کی آواز، بادل کی کڑک سے زیادہ تھی ﴿ عَاتِیَةٍ ﴾ بہت سے مفسرین کے قول کے مطابق یہ ہوا اپنے داروغوں کے سامنے سرکش تھی۔ دوسرا قول یہ ہے کہ یہ قوم عاد پر نہایت سرکشی کے ساتھ چلتی رہی اور حد سے بڑھ گئی۔ اور یہی صحیح قول یہی ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{وأمَّا عادٌ فأُهْلِكوا بريح صرصرٍ}؛ أي: قويَّةٍ شديدةِ الهبوب لها صوتٌ أبلغ من صوت الرعد القاصف. {عاتيةٍ}؛ أي: عتت على خزَّانها على قول كثير من المفسرين، أو عتت على عادٍ، وزادت على الحدِّ كما هو الصحيح.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔