تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الحاقة (69) — آیت 6

وَ اَمَّا عَادٌ فَاُہۡلِکُوۡا بِرِیۡحٍ صَرۡصَرٍ عَاتِیَۃٍ ۙ﴿۶﴾
اور جو عاد تھے وہ سخت ٹھنڈی، تند آندھی کے ساتھ ہلاک کر دیے گئے، جو قابو سے باہر ہونے والی تھی۔ En
رہے عاد تو ان کا نہایت تیز آندھی سے ستیاناس کردیا گیا
En
اور عاد بیحد تیز وتند ہوا سے غارت کردیئے گئے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ وَاَمَّا عَادٌ فَاُهْلِكُوْا بِرِیْحٍ صَرْصَرٍ اور رہے عاد تو انھیں نہایت تیز آندھی سے ہلاک کردیا گیا۔ یعنی بہت طاقت ور اور طوفانی ہوا جس کی آواز، بادل کی کڑک سے زیادہ تھی ﴿ عَاتِیَةٍ بہت سے مفسرین کے قول کے مطابق یہ ہوا اپنے داروغوں کے سامنے سرکش تھی۔ دوسرا قول یہ ہے کہ یہ قوم عاد پر نہایت سرکشی کے ساتھ چلتی رہی اور حد سے بڑھ گئی۔ اور یہی صحیح قول یہی ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{وأمَّا عادٌ فأُهْلِكوا بريح صرصرٍ}؛ أي: قويَّةٍ شديدةِ الهبوب لها صوتٌ أبلغ من صوت الرعد القاصف. {عاتيةٍ}؛ أي: عتت على خزَّانها على قول كثير من المفسرين، أو عتت على عادٍ، وزادت على الحدِّ كما هو الصحيح.