تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الحاقة (69) — آیت 5

فَاَمَّا ثَمُوۡدُ فَاُہۡلِکُوۡا بِالطَّاغِیَۃِ ﴿۵﴾
سو جو ثمود تھے وہ حد سے بڑھی ہوئی (آواز) کے ساتھ ہلاک کر دیے گئے۔ En
سو ثمود تو کڑک سے ہلاک کردیئے گئے
En
(جس کے نتیجہ میں) ﺛمود تو بے حد خوفناک (اور اونچی) آواز سے ہلاک کردیئے گئے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ فَاَمَّا ثَمُوْدُ فَاُهْلِكُوْا بِالطَّاغِیَةِ پس ثمود تو کڑک سے ہلاک کردیے گئے۔ اور وہ ایک زبردست اور انتہائی کرخت چنگھاڑ تھی، جس نے ان کے دلوں کو پارہ پارہ کر دیا اور ان کی روحیں پرواز کر گئیں اور وہ مردہ پڑے رہ گئے کہ ان کی رہائش گاہوں اور ان کی لاشوں کے سوا کچھ نظر نہیں آتا تھا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{فأمَّا ثمودُ فأهْلِكوا بالطَّاغية}: وهي الصيحة العظيمة الفظيعة، التي قطَّعتْ قلوبهم وزهقتْ لها أرواحهم، فأصبحوا موتى لا يُرى إلاَّ مساكِنُهم وجُثَثُهم.