تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الحاقة (69) — آیت 4

کَذَّبَتۡ ثَمُوۡدُ وَ عَادٌۢ بِالۡقَارِعَۃِ ﴿۴﴾
ثمود اور عاد نے اس کھٹکھٹانے والی(قیامت) کو جھٹلادیا۔ En
کھڑکھڑانے والی (جس) کو ثمود اور عاد (دونوں) نے جھٹلایا
En
اس کھڑکا دینے والی کو ﺛمود اور عاد نے جھٹلا دیا تھا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

پھر اللہ تعالیٰ نے اس کے احوال کے نمونے کا ذکر فرمایا جو دنیا میں موجود ہے جس کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے۔ یہ وہ سخت عقوبتیں ہیں جو اللہ تعالیٰ نے سرکش قوموں پر نازل فرمائیں، چنانچہ فرمایا: ﴿ كَذَّبَتْ ثَمُوْدُ ثمود ایک مشہور قبیلہ ہے جو حجر کے علاقے میں آباد تھے، اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف اپنے رسول حضرت صالح علیہ السلام کو مبعوث کیا جو ان کو شرک سے روکتے تھے اور ان کو توحید کا حکم دیتے تھے، پس انھوں نے حضرت صالح کی دعوت کو ٹھکرا دیا، ان کو جھٹلایا اور قیامت کے روز کو جھٹلایا جس کے بارے میں حضرت صالح علیہ السلام نے خبر دی تھی اور وہی یہی کھڑکھڑانے والی ہے جو مخلوق کو اپنی ہولناکیوں سے ہلاک کر ڈالے گی۔
اسی طرح عاد اولیٰ کو ہلاک کر ڈالا جو حضر موت کے باشندے تھے جب اللہ تعالیٰ نے اس کی طرف اپنے رسول ہود علیہ السلام کو بھیجا جو انھیں اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت کی دعوت دیتے تھے پس انھوں نے جناب ہود کی تکذیب کی اور قیامت کے متعلق حضرت ہود نے جو خبر دی تھی اس کا انکار کیا، پس اللہ تعالیٰ نے فوری عذاب کے ذریعے سے دونوں قوموں کو ہلاک کر ڈالا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ثم ذكر نموذجاً من أحوالها الموجودة في الدُّنيا المشاهدة فيها، وهو ما أحلَّه من العقوبات البليغة بالأمم العاتية، فقال: {كذَّبتْ ثمودُ}: وهم القبيلةُ المشهورةُ سكان الحِجْر الذين أرسل الله إليهم رسوله صالحاً عليه السلام؛ ينهاهم عمَّا هم عليه من الشِّرك ويأمرهم بالتوحيد، فردُّوا دعوته، وكذَّبوه، وكذَّبوا ما أخبر به من يوم القيامةِ، وهي القارعة التي تقرع الخَلْقَ بأهوالها، وكذلك عادٌ الأولى سكان حضرموت حين بَعَثَ الله إليهم رسوله هوداً عليه الصلاة والسلام، يدعوهم إلى عبادة الله وحده، فكذَّبوه، وأنكروا ما أخبر به من البعث، فأهلك الله الطائفتين بالهلاك العاجل.