تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ القلم (68) — آیت 9

وَدُّوۡا لَوۡ تُدۡہِنُ فَیُدۡہِنُوۡنَ ﴿۹﴾
وہ چاہتے ہیں کاش! تو نرمی کرے تو وہ بھی نرمی کریں۔ En
یہ لوگ چاہتے ہیں کہ تم نرمی اختیار کرو تو یہ بھی نرم ہوجائیں
En
وه تو چاہتے ہیں کہ تو ذرا ڈھیلا ہو تو یہ بھی ڈھیلے پڑ جائیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

لہٰذا فرمایا: ﴿ وَدُّوْا یعنی مشرکین چاہتے ہیں ﴿ لَوْ تُدْهِنُ کہ آپ ان کے موقف سے موافقت کریں قول کے ذریعے سے یا فعل کے ذریعے سے، یا جہاں کلام کرنا ضرور ٹھہرتا ہو وہاں خاموش رہیں ﴿ فَیُدْهِنُوْنَ تو وہ بھی نرم ہوجائیں۔ مگر آپ نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے حق کو کھلم کھلا بیان کیا اور دین اسلام کا اظہار کیا کیونکہ اس کا کامل اظہار، اس کی ضد کے نقض اور اس کے متناقض نظریات کے عیب کا اظہار ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ولهذا قال: {ودُّوا}؛ أي: المشركون، {لو تُدْهِنُ}؛ أي: توافقهم على بعض ما هم عليه: إمَّا بالقول، أو بالفعل، أو بالسكوت عما يتعيَّن الكلام فيه {فَيُدْهِنونَ}، ولكن اصدعْ بأمر الله، وأظهرْ دين الإسلام؛ فإنَّ تمام إظهاره نقضُ ما يضادُّه وعيب ما يناقضه.