تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ القلم (68) — آیت 8

فَلَا تُطِعِ الۡمُکَذِّبِیۡنَ ﴿۸﴾
پس تو ان جھٹلانے والوں کا کہنا مت مان۔ En
تو تم جھٹلانے والوں کا کہا نہ ماننا
En
پس تو جھٹلانے والوں کی نہ مان En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتا ہے: ﴿ فَلَا تُ٘طِعِ الْمُكَذِّبِیْنَ۠ جنھوں نے آپ کو جھٹلایا اور حق کے ساتھ عناد رکھا یہ لوگ اس قابل نہیں ہیں کہ ان کی اطاعت کی جائے کیونکہ یہ صرف اسی بات کا حکم دیتے ہیں جو ان کی خواہشات نفس کے موافق ہوتی ہے اور یہ باطل کے سوا کچھ نہیں چاہتے، پس ان کی اطاعت کرنے والا اس چیز کی طرف بڑھتا ہے جو اس کے لیے نقصان دہ ہے۔ یہ آیت کریمہ ہر جھٹلانے والے اور ہر اس اطاعت کے لیے عام ہے جو تکذیب سے جنم لیتی ہے اگرچہ اس کا سیاق ایک خاص معاملے میں ہے، اور وہ یہ ہے کہ کفار نے آپ سے مطالبہ کیا تھا کہ آپ ان کے معبودوں اور ان کے دین کے بارے میں خاموش ہو جائیں، وہ بھی آپ کے بارے میں خاموش رہیں گے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يقول الله تعالى لنبيِّه محمدٍ - صلى الله عليه وسلم -: {فلا تُطِعِ المكذِّبين}: الذين كذَّبوك وعاندوا الحقَّ؛ فإنَّهم ليسوا أهلاً لأن يُطاعوا؛ لأنَّهم لا يأمرون إلاَّ بما يوافق أهواءهم، وهم لا يريدون إلاَّ الباطل؛ فالمطيع لهم مُقْدِمٌ على ما يضرُّه، وهذا عامٌّ في كلِّ مكذِّب وفي كلِّ طاعةٍ ناشئةٍ عن التكذيب، وإن كان السياقُ في شيءٍ خاصٍّ، وهو أنَّ المشركين طلبوا من النبيِّ - صلى الله عليه وسلم - أن يسكت عن عيب آلهتهم ودينهم ويسكتوا عنه.