تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ القلم (68) — آیت 10

وَ لَا تُطِعۡ کُلَّ حَلَّافٍ مَّہِیۡنٍ ﴿ۙ۱۰﴾
اور تو کسی بہت قسمیں کھانے والے ذلیل کا کہنا مت مان۔ En
اور کسی ایسے شخص کے کہے میں نہ آجانا جو بہت قسمیں کھانے والا ذلیل اوقات ہے
En
اور تو کسی ایسے شخص کا بھی کہا نہ ماننا جو زیاده قسمیں کھانے واﻻ En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ وَلَا تُ٘طِعْ كُ٘لَّ حَلَّافٍ اور کسی ایسے شخص کی بات نہ ماننا جو بہت قسمیں کھانے والا ہو۔ کیونکہ اتنی زیادہ قسمیں کھانے والا جھوٹا ہی ہو سکتا ہے، اور آدمی جھوٹا نہیں ہو سکتا جب تک وہ ﴿ مَّهِیْنٍ خسیس النفس اور دانائی سے تہی دست نہ ہو اور اسے بھلائی میں کوئی رغبت نہ ہو بلکہ اس کا ارادہ اس کے خسیس نفس کی شہوات پر مرتکز ہو۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{ولا تطِعْ كلَّ حلاَّفٍ}؛ أي: كثير الحلف؛ فإنَّه لا يكون كذلك إلاَّ وهو كذَّابٌ، ولا يكون كذّاباً إلاَّ وهو {مَهينٌ}؛ أي: خسيس النفس، ناقصُ الهمة، ليس له رغبةٌ في الخير، بل إرادتُه في شهوات نفسه الخسيسة.