تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ القلم (68) — آیت 7

اِنَّ رَبَّکَ ہُوَ اَعۡلَمُ بِمَنۡ ضَلَّ عَنۡ سَبِیۡلِہٖ ۪ وَ ہُوَ اَعۡلَمُ بِالۡمُہۡتَدِیۡنَ ﴿۷﴾
یقینا تیرا رب ہی زیادہ جاننے والا ہے اس کو جو اس کی راہ سے بھٹک گیا اور وہی زیادہ جاننے والا ہے ان کو جو سیدھی راہ پر ہیں۔ En
تمہارا پروردگار اس کو بھی خوب جانتا ہے جو اس کے رستے سے بھٹک گیا اور ان کو بھی خوب جانتا ہے جو سیدھے راستے پر چل رہے ہیں
En
بیشک تیرا رب اپنی راه سے بہکنے والوں کو خوب جانتا ہے، اور وه راه یافتہ لوگوں کو بھی بخوبی جانتا ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اور ﴿ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبِیْلِهٖ٘١۪ وَهُوَ اَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِیْنَ وہ اس کو خوب جانتا ہے جو اس کے راستے سے بھٹک گیا اور ان کو بھی خوب جانتا ہے جو سیدھے راستے پر چل رہے ہیں۔ اس میں گمراہ لوگوں کے لیے تہدید اور ہدایت یافتہ لوگوں کے لیے وعدہ ہے، نیز اس میں اللہ تعالیٰ کی حکمت کا بیان ہے کہ وہ اس شخص کو ہدایت سے نوازتا ہے جو ہدایت کے لائق ہوتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{إنَّ ربَّك هو أعلمُ بمن ضلَّ عن سبيله وهو أعلم بالمهتدينَ}: وهذا فيه تهديدٌ للضَّالِّين، ووعدٌ للمهتدين، وبيانٌ لحكمة الله؛ حيث كان يهدي مَنْ يَصْلُحُ للهداية دون غيره.