تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ القلم (68) — آیت 29

قَالُوۡا سُبۡحٰنَ رَبِّنَاۤ اِنَّا کُنَّا ظٰلِمِیۡنَ ﴿۲۹﴾
انھوں نے کہا ہمارا رب پاک ہے، بلاشبہ ہم ہی ظالم تھے۔ En
(تب) وہ کہنے لگے کہ ہمارا پروردگار پاک ہے بےشک ہم ہی قصوروار تھے
En
تو سب کہنے لگے ہمارا رب پاک ہے بیشک ہم ہی ﻇالم تھے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ قَالُوْا سُبْحٰؔنَ رَبِّنَاۤ اِنَّا كُنَّا ظٰ٘لِمِیْنَ وہ کہنے لگے کہ ہمارا رب پاک ہے، بے شک ہم ہی قصوروار تھے۔ اس کے بعد انھوں نے اپنی کوتاہی کا تدارک کیا مگر اس وقت جب ان کے باغ پر عذاب نازل ہو چکا تھا جو اٹھایا نہیں جا سکتا تھا۔ ہو سکتا ہے ان کی یہ تسبیح، اپنی جانوں پر ظلم کرنے کا اقرار، تخفیف گناہ میں کوئی فائدہ دے اور توبہ بن جائے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

فَـ {قالوا سبحانَ ربِّنا إنَّا كُنَّا ظالمين}؛ أي: استدركوا بعد ذلك، ولكن بعدما وقع العذاب على جنتهم، الذي لا يُرفع، ولكن لعلَّ تسبيحهم هذا وإقرارهم على أنفسهم بالظُّلم ينفعهم في تخفيف الإثم ويكونُ توبةً.