تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ قَالَاَوْسَطُهُمْ ﴾ یعنی ان میں سے سب سے زیادہ انصاف پسند اور سب سے اچھا طریقہ رکھنے والے نے کہا: ﴿ اَلَمْاَ٘قُ٘لْلَّـكُمْلَوْلَاتُسَبِّحُوْنَ﴾ کیا میں نے تمھیں نہیں کہا تھا کہ تم اللہ تعالیٰ کو ان اوصاف سے منزہ کیوں قرار نہیں دیتے جو اس کے لائق نہیں؟ ان میں سے ایک یہ کہ تمھارا گمان ہے کہ تمھاری قدرت ایک مستقل حیثیت رکھتی ہے، تم نے ”ان شاء اللّٰہ“ کہہ کر استثنا کیا ہوتا اور اپنی مشیت کو اللہ تعالیٰ کی مشیت کے تابع کیا ہوتا، تو تمھارے ساتھ وہ کچھ نہ ہوتا جو ہوا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
فَـ {قَالَ أوسطُهم}؛ أي: أعدلُهم وأحسنُهم طريقةً: {ألم أقل لكم لولا تسبِّحونَ}؛ أي: تنزِّهون الله عما لا يليق به، ومن ذلك ظنُّكم أنَّ قدرتكم مستقلةٌ، فلولا استثنيتم وقلتُم: إنْ شاء الله، وجعلتم مشيئتكم تابعةً لمشيئتِهِ ؛ لما جرى عليكم ما جرى.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔