تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ القلم (68) — آیت 28

قَالَ اَوۡسَطُہُمۡ اَلَمۡ اَقُلۡ لَّکُمۡ لَوۡ لَا تُسَبِّحُوۡنَ ﴿۲۸﴾
ان میں سے بہتر نے کہا کیا میں نے تم سے کہا نہ تھا کہ تم تسبیح کیوں نہیں کرتے۔ En
ایک جو اُن میں فرزانہ تھا بولا کہ کیا میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ تم تسبیح کیوں نہیں کرتے؟
En
ان سب میں جو بہتر تھا اس نے کہا کہ میں تم سے نہ کہتا تھا کہ تم اللہ کی پاکیزگی کیوں نہیں بیان کرتے؟ En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ قَالَ اَوْسَطُهُمْ یعنی ان میں سے سب سے زیادہ انصاف پسند اور سب سے اچھا طریقہ رکھنے والے نے کہا: ﴿ اَلَمْ اَ٘قُ٘لْ لَّـكُمْ لَوْلَا تُسَبِّحُوْنَ کیا میں نے تمھیں نہیں کہا تھا کہ تم اللہ تعالیٰ کو ان اوصاف سے منزہ کیوں قرار نہیں دیتے جو اس کے لائق نہیں؟ ان میں سے ایک یہ کہ تمھارا گمان ہے کہ تمھاری قدرت ایک مستقل حیثیت رکھتی ہے، تم نے ان شاء اللّٰہ کہہ کر استثنا کیا ہوتا اور اپنی مشیت کو اللہ تعالیٰ کی مشیت کے تابع کیا ہوتا، تو تمھارے ساتھ وہ کچھ نہ ہوتا جو ہوا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

فَـ {قَالَ أوسطُهم}؛ أي: أعدلُهم وأحسنُهم طريقةً: {ألم أقل لكم لولا تسبِّحونَ}؛ أي: تنزِّهون الله عما لا يليق به، ومن ذلك ظنُّكم أنَّ قدرتكم مستقلةٌ، فلولا استثنيتم وقلتُم: إنْ شاء الله، وجعلتم مشيئتكم تابعةً لمشيئتِهِ ؛ لما جرى عليكم ما جرى.