اس آیت کی تفسیر آیت 28 میں تا آیت 30 میں گزر چکی ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
29۔ 1 یعنی اب انہیں احساس ہوا کہ ہم نے اپنے باپ کے طرز عمل کے خلاف قدم اٹھا کر غلطی کا ارتکاب کیا ہے جس کی سزا اللہ نے ہمیں دی ہے اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ معصیت کا عزم اور اس کے لیے ابتدائی اقدامات بھی ارتکاب معصیت کی طرح جرم ہے جس پر مؤاخذہ ہوسکتا ہے صرف وہ ارادہ معاف ہے جو وسوسے کی حد تک ہو۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
29۔ وہ کہنے لگے: پاک ہے ہمارا پروردگار، ہم ہی ظالم تھے
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ قَالُوْاسُبْحٰؔنَرَبِّنَاۤاِنَّاكُنَّاظٰ٘لِمِیْنَ ﴾”وہ کہنے لگے کہ ہمارا رب پاک ہے، بے شک ہم ہی قصوروار تھے۔“ اس کے بعد انھوں نے اپنی کوتاہی کا تدارک کیا مگر اس وقت جب ان کے باغ پر عذاب نازل ہو چکا تھا جو اٹھایا نہیں جا سکتا تھا۔ ہو سکتا ہے ان کی یہ تسبیح، اپنی جانوں پر ظلم کرنے کا اقرار، تخفیف گناہ میں کوئی فائدہ دے اور توبہ بن جائے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
فَـ {قالوا سبحانَ ربِّنا إنَّا كُنَّا ظالمين}؛ أي: استدركوا بعد ذلك، ولكن بعدما وقع العذاب على جنتهم، الذي لا يُرفع، ولكن لعلَّ تسبيحهم هذا وإقرارهم على أنفسهم بالظُّلم ينفعهم في تخفيف الإثم ويكونُ توبةً.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔