(آیت 29،28) {قَالَاَوْسَطُهُمْاَلَمْاَقُلْلَّكُمْ …: ”اَوْسَطُهُمْ“} کا معنی ان کے درمیان والا بھی ہے اور ان میں سے افضل بھی، جیسے فرمایا: «وَكَذٰلِكَجَعَلْنٰكُمْاُمَّةًوَّسَطًا» [البقرۃ: ۱۴۳]”اور اسی طرح ہم نے تمھیں سب سے بہتر امت بنایا۔“ تو ان میں سے جو بہتر تھا اس نے انھیں ان کے خبیث ارادے کے وقت نصیحت کی تھی {”لَوْلَاتُسَبِّحُوْنَ“} کہ تم اللہ کی تسبیح کیوں نہیں کرتے اور اس بری نیت سے توبہ کیوں نہیں کرتے؟ مگر انھوں نے اس کی بات نہیں مانی تھی، اب اس نے انھیں وہ بات یاد دلائی۔ {”لَوْلَاتُسَبِّحُوْنَ“} کا معنی بعض نے یہ کیا ہے کہ ”تم ان شاء اللہ کیوں نہیں کہتے؟“ مگر سارا پھل توڑنے کا ارادہ کر کے ”ان شاء اللہ“ پڑھ بھی لیتے تو کچھ فائدہ نہ تھا، اس لیے یہی معنی درست معلوم ہوتا ہے کہ اس نے کہا تم اپنے رب کو یاد کیوں نہیں کرتے، اس کا ہر عیب سے پاک ہونا خصوصاً اس قسم کے بخل سے اور مسکینوں کو محروم کرنے کے ارادے سے پاک ہونا کیوں یاد نہیں کرتے کہ تم بھی اس بخل اور کمینگی سے بچ جاؤ۔ اس معنی کے درست ہونے کا ایک قرینہ یہ ہے کہ جب ان کے بھائی نے انھیں اپنی بات یاد دلائی تو انھوں نے {”سُبْحٰنَرَبِّنَا“} کہہ کر اس وقت ”سبحان اللہ “نہ کہنے کی تلافی کی کوشش کی۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
28۔ 1 بعض نے تسبیح سے مراد انشاء اللہ کہنا مراد لیا ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
28۔ ان کے منجھلے نے کہا: میں نے تمہیں کہا نہ تھا کہ تم تسبیح کیوں نہیں کرتے؟
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ قَالَاَوْسَطُهُمْ ﴾ یعنی ان میں سے سب سے زیادہ انصاف پسند اور سب سے اچھا طریقہ رکھنے والے نے کہا: ﴿ اَلَمْاَ٘قُ٘لْلَّـكُمْلَوْلَاتُسَبِّحُوْنَ﴾ کیا میں نے تمھیں نہیں کہا تھا کہ تم اللہ تعالیٰ کو ان اوصاف سے منزہ کیوں قرار نہیں دیتے جو اس کے لائق نہیں؟ ان میں سے ایک یہ کہ تمھارا گمان ہے کہ تمھاری قدرت ایک مستقل حیثیت رکھتی ہے، تم نے ”ان شاء اللّٰہ“ کہہ کر استثنا کیا ہوتا اور اپنی مشیت کو اللہ تعالیٰ کی مشیت کے تابع کیا ہوتا، تو تمھارے ساتھ وہ کچھ نہ ہوتا جو ہوا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
فَـ {قَالَ أوسطُهم}؛ أي: أعدلُهم وأحسنُهم طريقةً: {ألم أقل لكم لولا تسبِّحونَ}؛ أي: تنزِّهون الله عما لا يليق به، ومن ذلك ظنُّكم أنَّ قدرتكم مستقلةٌ، فلولا استثنيتم وقلتُم: إنْ شاء الله، وجعلتم مشيئتكم تابعةً لمشيئتِهِ ؛ لما جرى عليكم ما جرى.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔