تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ القلم (68) — آیت 16

سَنَسِمُہٗ عَلَی الۡخُرۡطُوۡمِ ﴿۱۶﴾
جلد ہی ہم اسے تھوتھنی پر داغ لگائیں گے۔ En
ہم عنقریب اس کی ناک پر داغ لگائیں گے
En
ہم بھی اس کی سونڈ (ناک) پر داغ دیں گے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

پھر اللہ تعالیٰ نے اس شخص کو وعید سنائی ہے جس سے یہ سب کچھ واقع ہوا جو اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ عذاب میں اس کی ناک پر داغ لگائے گا اور اسے ظاہری عذاب میں مبتلا کرے گا۔ اس کے چہرے پر داغ اور علامت لگی ہوگی جہاں داغ کا لگایا جانا سب سے زیادہ شاق گزرتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ثم توعَّد تعالى مَنْ جرى منه ما وَصَفَ الله بأن الله سَيَسِمُهُ {على الخرطوم}: في العذاب، وليعذبه عذاباً ظاهراً يكون عليه سِمَةً وعلامةً في أشقِّ الأشياء عليه وهو وجهه.