تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ القلم (68) — آیت 12

مَّنَّاعٍ لِّلۡخَیۡرِ مُعۡتَدٍ اَثِیۡمٍ ﴿ۙ۱۲﴾
خیر کو بہت روکنے والا، حد سے بڑھنے والا، سخت گناہ گار ہے۔ En
مال میں بخل کرنے والا حد سے بڑھا ہوا بدکار
En
بھلائی سے روکنے واﻻ حد سے بڑھ جانے واﻻ گنہگار En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ مَّنَّاعٍ لِّلْخَیْرِ بھلائی، یعنی نفقات واجبہ، کفارہ، زکاۃ وغیرہ سے منع کرنے والا ہے۔ ﴿ مُعْتَدٍ مخلوق پر زیادتی کرنے والا، لوگوں کی جان و مال اور ان کی ناموس میں ظلم کرنے والا ﴿ اَثِیْمٍ یعنی اللہ تعالیٰ کے حقوق سے متعلق بہت زیادہ گناہوں کا ارتکاب کرنے والا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{منَّاع للخيرِ}: الذي يلزمه القيام به من النفقات الواجبة والكفارات والزَّكَوات وغير ذلك. {معتدٍ}: على الخلق؛ يظلِمُهم في دمائهم وأموالهم وأعراضهم. {أثيمٍ}؛ أي: كثير الإثم والذُّنوب المتعلِّقة في حقِّ الله [تعالى].