تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ القلم (68) — آیت 11

ہَمَّازٍ مَّشَّآءٍۭ بِنَمِیۡمٍ ﴿ۙ۱۱﴾
جو بہت طعنہ دینے والا، چغلی میں بہت دوڑ دھوپ کرنے والا ہے۔ En
طعن آمیز اشارتیں کرنے والا چغلیاں لئے پھرنے والا
En
بے وقار، کمینہ، عیب گو، چغل خور En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ هَمَّازٍ یعنی جو لوگوں کی بہت زیادہ عیب چینی کرتا ہے اور غیبت و استہزا کے ذریعے سے طعنہ زنی کرتا ہے ﴿ مَّشَّآءٍۭؔ بِنَمِیْمٍ یعنی لوگوں کے درمیان چغل خوری کرتا پھرتا ہے۔چغل خوری یہ ہے کہ لوگوں کے درمیان فساد ڈالنے اور عداوت اور بغض پیدا کرنے کی غرض سے ایک کی بات دوسرے تک پہنچائی جائے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{همَّازٍ}؛ أي: كثير العيب للناس والطعن فيهم بالغيبة والاستهزاء وغير ذلك، {مشاءٍ بنميمٍ}؛ أي: يمشي بين الناس بالنميمة، وهو نقلُ كلام بعضِ الناس لبعض لقصد الإفسادِ بينهم وإيقاع العداوة والبغضاء.