تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الملك (67) — آیت 5

وَ لَقَدۡ زَیَّنَّا السَّمَآءَ الدُّنۡیَا بِمَصَابِیۡحَ وَ جَعَلۡنٰہَا رُجُوۡمًا لِّلشَّیٰطِیۡنِ وَ اَعۡتَدۡنَا لَہُمۡ عَذَابَ السَّعِیۡرِ ﴿۵﴾
اور بلاشبہ یقینا ہم نے قریب کے آسمان کو چراغوں کے ساتھ زینت بخشی اور ہم نے انھیں شیطانوں کو مارنے کے آلے بنایا اور ہم نے ان کے لیے بھڑکتی ہوئی آگ کا عذاب تیار کر رکھا ہے۔ En
اور ہم نے قریب کے آسمان کو (تاروں کے) چراغوں سے زینت دی۔ اور ان کو شیطان کے مارنے کا آلہ بنایا اور ان کے لئے دہکتی آگ کا عذاب تیار کر رکھا ہے
En
بیشک ہم نے آسمان دنیا کو چراغوں (ستاروں) سے آراستہ کیا اور انہیں شیطانوں کے مارنے کا ذریعہ بنا دیا اور شیطانوں کے لیے ہم نے (دوزخ کا جلانے واﻻ) عذاب تیار کر دیا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

یعنی ہم نے جمال بخشا ﴿ السَّمَآءَ الدُّنْیَا دنیا کے آسمان کو جسے تم دیکھ رہے ہو اور جو تمھارے قریب اور متصل ہے۔ ﴿ بِمَصَابِیْحَ چراغوں کے ساتھ۔ اس سے مراد مختلف اقسام کی روشنیاں رکھنے والے ستارے ہیں کیونکہ اگر آسمان میں ستارے نہ ہوتے تو یہ ایک تاریک چھت ہوتی جس میں کوئی حسن و جمال نہ ہو۔ مگر اللہ تعالیٰ نے ان ستاروں کو آسمان کی زینت، حسن و جمال اور راہ نما بنایا جن کے ذریعے سے بحر و بر میں راہ نمائی حاصل کی جاتی ہے۔
اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ خبر کہ اس نے آسمان دنیا کو چراغوں سے مزین کیا، اس امر کے منافی نہیں کہ بہت سے ستارے ساتوں آسمانوں کے اوپر ہوں کیونکہ آسمان شفاف ہوتے ہیں اور اگر آسمان دنیا پر ستارے نہ بھی ہوں، تو ساتوں آسمانوں کے ستاروں کے ذریعے سے آسمان دنیا کو زینت حاصل ہو سکتی ہے۔
﴿ وَجَعَلْنٰهَا اور بنیایا ہم نے چراغوں کو ﴿ رُجُوْمًا لِّلشَّیٰطِیْنِ شیطانوں کو مارنے کا آلہ۔ جو آسمانوں سے خبر چوری کرنا چاہتے ہیں، پس یہ شہاب جنھیں ستاروں سے شیطان شیاطین پر پھینکا جاتا ہے، انھیں اللہ تبارک و تعالیٰ نے دنیا کے اندر شیاطین کے لیے تیار کر رکھا ہے۔ ﴿ وَاَعْتَدْنَا لَهُمْ اور آخرت میں ان کے لیے تیار کیا ہے۔ ﴿ عَذَابَ السَّعِیْرِ بھڑکتی ہوئی آگ کا عذاب۔ کیونکہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں سرکشی اختیار کی اور اس کے بندوں کو گمراہ کیا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أي: ولقد جمَّلْنا {السماء الدُّنيا}: التي ترونَها وتليكم، {بمصابيحَ}: وهي النجوم على اختلافها في النور والضياء؛ فإنَّه لولا ما فيها من النُّجوم؛ لكانت سقفاً مظلماً لا حسن فيه ولا جمال، ولكن جعل الله هذه النجوم زينةً للسماء، وجمالاً ونوراً وهدايةً يُهتدى بها في ظلمات البرِّ والبحر، ولا ينافي إخباره أنَّه زيَّن السماء الدُّنيا بمصابيح أن يكون كثيرٌ من النجوم فوق السماوات السبع؛ فإنَّ السماواتِ شفافةٌ، وبذلك تحصل الزينة للسماء الدُّنيا وإن لم تكن الكواكب فيها، {وجعلناها}؛ أي: المصابيح {رجوماً للشياطين}: الذين يريدون استراقَ خبر السماء، فجعل الله هذه النجوم حراسةً للسماء عن تلقُّف الشياطين أخبار الأرض؛ فهذه الشهب التي تُرمى من النُّجوم أعدها الله في الدُّنيا للشياطين، {وأعتدنا لهم}: في الآخرة {عذابَ السعير}: لأنَّهم تمرَّدوا على الله، وأضلُّوا عباده.