تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
پھر ان کا ایک اور فائدہ بیان ہو رہا ہے کہ ’ ان سے شیطانوں کو مارا جاتا ہے ان میں سے شعلے نکل کر ان پر گرتے ہیں ‘ یہ نہیں کہ خود ستارہ ان پر ٹوٹے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
شیاطین کی دنیا میں یہ رسوائی تو دیکھتے ہی ہو آخرت میں بھی ان کے لیے جلانے والا عذاب ہے۔ جیسے سورۃ صافات کے شروع میں ہے کہ «إِنَّا زَيَّنَّا السَّمَاءَ الدُّنْيَا بِزِينَةٍ الْكَوَاكِبِ وَحِفْظًا مِّن كُلِّ شَيْطَانٍ مَّارِدٍ لَّا يَسَّمَّعُونَ إِلَى الْمَلَإِ الْأَعْلَىٰ وَيُقْذَفُونَ مِن كُلِّ جَانِبٍ دُحُورًا وَلَهُمْ عَذَابٌ وَاصِبٌ إِلَّا مَنْ خَطِفَ الْخَطْفَةَ فَأَتْبَعَهُ شِهَابٌ ثَاقِبٌ» ۱؎ [37-الصافات:6-10] ’ ہم نے آسمان دنیا کو ستاروں سے زینت دی ہے اور سرکش شیطانوں کی حفاظت میں انہیں رکھا ہے، وہ بلند و بالا فرشتوں کی باتیں سن نہیں سکتے اور چاروں طرف سے حملہ کر کے بھگا دیئے جاتے ہیں اور ان کے لیے دائمی عذاب ہے اگر کوئی ان میں سے ایک آدھ بات اچک کر لے بھاگتا ہے تو اس کے پیچھے چمکدار تیز شعلہ لپکتا ہے ‘۔
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”ستارے تین فائدے کے لیے پیدا کئے گئے ہیں، آسمان کی زینت، شیطانوں کی مار اور راہ پانے کے نشانات۔ جس شخص نے اس کے سوا کوئی اور بات تلاش کی اس نے رائے کی پیروی کی اور اپنا صحیح حصہ کھو دیا اور باوجود علم نہ ہونے کے تکلف کیا۔“ [ابن جریر اور ابن ابی حاتم]
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
أي: ولقد جمَّلْنا {السماء الدُّنيا}: التي ترونَها وتليكم، {بمصابيحَ}: وهي النجوم على اختلافها في النور والضياء؛ فإنَّه لولا ما فيها من النُّجوم؛ لكانت سقفاً مظلماً لا حسن فيه ولا جمال، ولكن جعل الله هذه النجوم زينةً للسماء، وجمالاً ونوراً وهدايةً يُهتدى بها في ظلمات البرِّ والبحر، ولا ينافي إخباره أنَّه زيَّن السماء الدُّنيا بمصابيح أن يكون كثيرٌ من النجوم فوق السماوات السبع؛ فإنَّ السماواتِ شفافةٌ، وبذلك تحصل الزينة للسماء الدُّنيا وإن لم تكن الكواكب فيها، {وجعلناها}؛ أي: المصابيح {رجوماً للشياطين}: الذين يريدون استراقَ خبر السماء، فجعل الله هذه النجوم حراسةً للسماء عن تلقُّف الشياطين أخبار الأرض؛ فهذه الشهب التي تُرمى من النُّجوم أعدها الله في الدُّنيا للشياطين، {وأعتدنا لهم}: في الآخرة {عذابَ السعير}: لأنَّهم تمرَّدوا على الله، وأضلُّوا عباده.