تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الملك (67) — آیت 4

ثُمَّ ارۡجِعِ الۡبَصَرَ کَرَّتَیۡنِ یَنۡقَلِبۡ اِلَیۡکَ الۡبَصَرُ خَاسِئًا وَّ ہُوَ حَسِیۡرٌ ﴿۴﴾
پھر بار بار نگاہ لوٹا، نظر ناکام ہو کر تیری طرف پلٹ آئے گی اور وہ تھکی ہوئی ہوگی۔ En
پھر دو بارہ (سہ بارہ) نظر کر، تو نظر (ہر بار) تیرے پاس ناکام اور تھک کر لوٹ آئے گی
En
پھر دوہرا کر دو دو بار دیکھ لے تیری نگاه تیری طرف ذلیل (و عاجز) ہو کر تھکی ہوئی لوٹ آئے گی En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ ثُمَّ ارْجِـعِ الْ٘بَصَرَؔ كَرَّتَیْنِ پھر لوٹا تو نگاہ کو دوبارہ بار بار۔ اس سے مراد کثرت تکرار ہے ﴿ یَنْقَلِبْ اِلَیْكَ الْ٘بَصَرُ خَاسِئًا وَّهُوَ حَسِیْرٌ نظر (ہر بار) تیرے پاس ناکام اور تھک کر لوٹ آئے گی۔ یعنی کوئی خلل اور کوئی نقص دیکھنے سے عاجز آکر واپس لوٹے گی اور خواہ وہ خلل دیکھنے کی بے انتہا خواہش رکھتی ہو،
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{ثم ارجِعِ البصرَ كرَّتيِن}: [و] المراد بذلك كثرة التكرار، {ينقلبْ إليك البصر خاسئاً وهو حسيرٌ}؛ أي: عاجزاً عن أن يرى خللاً أو فطوراً، ولو حرص غاية الحرص.