تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ ثُمَّارْجِـعِالْ٘بَصَرَؔكَرَّتَیْنِ ﴾” پھر لوٹا تو نگاہ کو دوبارہ بار بار۔“ اس سے مراد کثرت تکرار ہے ﴿ یَنْقَلِبْاِلَیْكَالْ٘بَصَرُخَاسِئًاوَّهُوَحَسِیْرٌ ﴾”نظر (ہر بار) تیرے پاس ناکام اور تھک کر لوٹ آئے گی۔“ یعنی کوئی خلل اور کوئی نقص دیکھنے سے عاجز آکر واپس لوٹے گی اور خواہ وہ خلل دیکھنے کی بے انتہا خواہش رکھتی ہو،
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{ثم ارجِعِ البصرَ كرَّتيِن}: [و] المراد بذلك كثرة التكرار، {ينقلبْ إليك البصر خاسئاً وهو حسيرٌ}؛ أي: عاجزاً عن أن يرى خللاً أو فطوراً، ولو حرص غاية الحرص.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔