تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الملك (67) — آیت 3

الَّذِیۡ خَلَقَ سَبۡعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًا ؕ مَا تَرٰی فِیۡ خَلۡقِ الرَّحۡمٰنِ مِنۡ تَفٰوُتٍ ؕ فَارۡجِعِ الۡبَصَرَ ۙ ہَلۡ تَرٰی مِنۡ فُطُوۡرٍ ﴿۳﴾
وہ جس نے سات آسمان اوپر نیچے پیدا فرمائے۔ رحمان کے پیدا کیے ہوئے میں تو کوئی کمی بیشی نہیں دیکھے گا۔ پس نگاہ کو لوٹا، کیا تجھے کوئی کٹی پھٹی جگہ نظر آتی ہے؟ En
اس نے سات آسمان اوپر تلے بنائے۔ (اے دیکھنے والے) کیا تو (خدا) رحمٰن کی آفرینش میں کچھ نقص دیکھتا ہے؟ ذرا آنکھ اٹھا کر دیکھ بھلا تجھ کو (آسمان میں) کوئی شگاف نظر آتا ہے؟
En
جس نے سات آسمان اوپر تلے بنائے۔ (تو اے دیکھنے والے) اللہ رحمٰن کی پیدائش میں کوئی بے ضابطگی نہ دیکھے گا، دوباره (نظریں ڈال کر) دیکھ لے کیا کوئی شگاف بھی نظر آرہا ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ الَّذِیْ خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًا یعنی اس نے آسمانوں کو ایک ہی طبق نہیں بنایا بلکہ ان کو ایک دوسرے کے اوپر بنایا، ان کو انتہائی خوبصورتی اور مضبوطی کے ساتھ پیدا کیا ﴿ مَا تَرٰؔى فِیْ خَلْ٘قِ الرَّحْمٰنِ مِنْ تَفٰوُتٍ تم رحمٰن کی تخلیق میں کوئی بے ربطی نہیں دیکھوگے۔ یعنی خلل اور نقص۔ جب نقص کی ہر لحاظ سے نفی ہو گئی تو وہ ہر لحاظ سے خوبصورت، کامل اور متناسب بن گئے، یعنی اپنے رنگ میں، اپنی ہیئت میں، اپنی بلندی میں، اپنے سورج، کواکب، ثوابت اور سیارات میں خوبصورت اور متناسب ہیں۔چونکہ اس کا کمال معلوم ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کو بار بار دیکھنے اور اس کے کناروں میں غور کرنے کا حکم دیا ہے۔ ﴿ فَارْجِـعِ الْ٘بَصَرَ عبرت کی نظر سے دیکھنے کے لیے، اس پر دوبارہ نگاہ ڈال ﴿ هَلْ تَرٰى مِنْ فُطُوْرٍ کیا تجھے کوئی نقص اور خلل نظر آتا ہے؟
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{الذي خلق سبع سمواتٍ طباقاً}؛ أي: كل واحدةٍ فوق الأخرى، ولسن طبقة واحدة، وخلقها في غاية الحسن والإتقان، {ما ترى في خَلْقِ الرحمن من تفاوتٍ}؛ أي: خلل ونقص، وإذا انتفى النقص من كل وجهٍ؛ صارت حسنةً كاملةً متناسبةً من كلِّ وجه في لونها وهيئتها وارتفاعها وما فيها من الشمس [والقمر] والكواكب النيِّرات الثوابت منهنَّ والسيارات، ولمَّا كان كمالُها معلوماً؛ أمر تعالى بتكرار النظر إليها والتأمُّل في أرجائها؛ قال: {فارجِعِ البصرَ}؛ أي: أعده إليها ناظراً معتبراً، {هل ترى من فُطورٍ}؟ أي: نقص واختلال.