تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ وَیَقُوْلُوْنَ﴾ اور تکذیب کرتے ہوئے کہتے ہیں: ﴿ مَتٰىهٰؔذَاالْوَعْدُاِنْكُنْتُمْصٰؔدِقِیْنَ﴾”اگر تم سچے ہو تو یہ وعدہ کب پورا ہوگا۔“ انھوں نے ان کی صداقت کی علامت یہ رکھی کہ انھیں قیامت کے دن کی آمد کے وقت کے بارے میں آگاہ کریں جبکہ یہ ظلم اور عناد ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{ويقولون}: تكذيباً: {متى هذا الوعدُ إن كنتُم صادقينَ}؟ جعلوا علامة صدقِهِم أنْ يُخْبِروهم بوقت مجيئِهِ، وهذا ظلمٌ وعنادٌ.