تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الملك (67) — آیت 25

وَ یَقُوۡلُوۡنَ مَتٰی ہٰذَا الۡوَعۡدُ اِنۡ کُنۡتُمۡ صٰدِقِیۡنَ ﴿۲۵﴾
اور وہ کہتے ہیں یہ وعدہ کب (پورا) ہوگا، اگر تم سچے ہو؟ En
اور کافر کہتے ہیں کہ اگر تم سچے ہو تو یہ وعید کب (پورا) ہوگا؟
En
(کافر) پوچھتے ہیں کہ وه وعده کب ﻇاہر ہوگا اگر تم سچے ہو (تو بتاؤ؟) En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ وَیَقُوْلُوْنَ اور تکذیب کرتے ہوئے کہتے ہیں: ﴿ مَتٰى هٰؔذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰؔدِقِیْنَ اگر تم سچے ہو تو یہ وعدہ کب پورا ہوگا۔ انھوں نے ان کی صداقت کی علامت یہ رکھی کہ انھیں قیامت کے دن کی آمد کے وقت کے بارے میں آگاہ کریں جبکہ یہ ظلم اور عناد ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{ويقولون}: تكذيباً: {متى هذا الوعدُ إن كنتُم صادقينَ}؟ جعلوا علامة صدقِهِم أنْ يُخْبِروهم بوقت مجيئِهِ، وهذا ظلمٌ وعنادٌ.