تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الملك (67) — آیت 26

قُلۡ اِنَّمَا الۡعِلۡمُ عِنۡدَ اللّٰہِ ۪ وَ اِنَّمَاۤ اَنَا نَذِیۡرٌ مُّبِیۡنٌ ﴿۲۶﴾
کہہ دے یہ علم تو اللہ ہی کے پاس ہے اور میں تو بس ایک کھلا ڈرانے والا ہوں۔ En
کہہ دو اس کا علم خدا ہی کو ہے۔ اور میں تو کھول کھول کر ڈر سنانے دینے والا ہوں
En
آپ کہہ دیجئے کہ اس کا علم تو اللہ ہی کو ہے، میں تو صرف کھلے طور پر آگاه کر دینے واﻻ ہوں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

پس اس کا علم تو اللہ کے پاس ہے مخلوق میں سے کسی کے پاس نہیں اور نہ اس خبر اور اس کے وقوع کے وقت کی خبر میں کوئی تلازم ہی ہے کیونکہ صداقت اپنے دلائل سے پہچانی جاتی ہے۔اللہ تعالیٰ نے اس کی صحت پر دلائل و براہین قائم کر دیے ہیں، اس شخص کے لیے ادنیٰ سا شک نہیں رہتا جو توجہ کے ساتھ سنتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

فإنما {العلم عند الله}: لا عند أحدٍ من الخلق، ولا ملازمة بين هذا الخبر وبين الإخبار بوقته؛ فإنَّ الصدق يُعْرَفُ بأدلَّته، وقد أقام الله من الأدلَّة والبراهين على صحَّته ما لا يبقى معه أدنى شكٍّ لمن ألقى السمع وهو شهيدٌ.