تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الملك (67) — آیت 24

قُلۡ ہُوَ الَّذِیۡ ذَرَاَکُمۡ فِی الۡاَرۡضِ وَ اِلَیۡہِ تُحۡشَرُوۡنَ ﴿۲۴﴾
کہہ دے وہی ہے جس نے تمھیں زمین میں پھیلایا اور تم اسی کی طرف اکٹھے کیے جاؤ گے۔ En
کہہ دو کہ وہی ہے جس نے تم کو زمین میں پھیلایا اور اسی کے روبرو تم جمع کئے جاؤ گے
En
کہہ دیجئے! کہ وہی ہے جس نے تمہیں زمین میں پھیلا دیا اور اس کی طرف سے تم اکٹھے کیے جاؤ گے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ قُ٘لْ هُوَ الَّذِیْ ذَرَاَكُمْ فِی الْاَرْضِ کہہ دیجیے کہ وہی ہے جس نے تم کو زمین میں پھیلایا۔ یعنی اس نے تمھیں زمین کے چاروں سمت پھیلا یااور اس کے کناروں تک تمھیں آباد کیا، تمھیں امر و نہی کا مکلف کیا، تمھیں نعمتوں سے سرفراز فرمایا جن سے تم فائدہ اٹھاتے ہو، پھر اس کے بعد قیامت کے دن وہ تمھیں اکٹھا کرے گا۔ مگر یہ معاندین حق، جزا و سزا کے اس وعدے کا انکار کرتے ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{قل هو الذي ذَرَأكُم في الأرض}؛ أي: بثَّكم في أقطارها، وأسكنَكم في أرجائها، وأمركم ونهاكم، وأسدى عليكم من النِّعم ما به تنتفعون، ثم بعد ذلك يحشُرُكم ليوم القيامةِ، ولكنَّ هذا الوعد بالجزاء ينكِرُه هؤلاء المعاندون.