ترجمہ و تفسیر — سورۃ الملك (67) — آیت 24

قُلۡ ہُوَ الَّذِیۡ ذَرَاَکُمۡ فِی الۡاَرۡضِ وَ اِلَیۡہِ تُحۡشَرُوۡنَ ﴿۲۴﴾
کہہ دے وہی ہے جس نے تمھیں زمین میں پھیلایا اور تم اسی کی طرف اکٹھے کیے جاؤ گے۔ En
کہہ دو کہ وہی ہے جس نے تم کو زمین میں پھیلایا اور اسی کے روبرو تم جمع کئے جاؤ گے
En
کہہ دیجئے! کہ وہی ہے جس نے تمہیں زمین میں پھیلا دیا اور اس کی طرف سے تم اکٹھے کیے جاؤ گے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 24) {قُلْ هُوَ الَّذِيْ ذَرَاَكُمْ فِي الْاَرْضِ …:} جو تمھیں روئے زمین پر پھیلا سکتا ہے وہ تمھیں دوبارہ اکٹھا بھی کر سکتا ہے اور کرے گا۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

یعنی انسانوں کو پیدا کرکے زمین میں پھیلانے والا بھی وہی ہے اور قیامت والے دن سب جمع بھی اس کے پاس ہوں گے کسی اور کے پاس نہیں۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

24۔ آپ کہیے کہ: کہ وہی تو ہے جس نے تمہیں زمین میں پھیلا دیا اور اسی کی طرف تم اکٹھے [27] کیے جاؤ گے
[27] یعنی اللہ وہ ذات ہے جس نے تمہیں ایک نفس سے پیدا کر کے ایک جگہ سے تمام روئے زمین پر پھیلا دیا ہے۔ اگر اس میں یہ قدرت ہے تو وہ تمہیں ایک جگہ پر پھر سے اکٹھا بھی کر سکتا ہے۔ اور یہ کام وہ عالم آخرت میں کرے گا۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ قُ٘لْ هُوَ الَّذِیْ ذَرَاَكُمْ فِی الْاَرْضِ کہہ دیجیے کہ وہی ہے جس نے تم کو زمین میں پھیلایا۔ یعنی اس نے تمھیں زمین کے چاروں سمت پھیلا یااور اس کے کناروں تک تمھیں آباد کیا، تمھیں امر و نہی کا مکلف کیا، تمھیں نعمتوں سے سرفراز فرمایا جن سے تم فائدہ اٹھاتے ہو، پھر اس کے بعد قیامت کے دن وہ تمھیں اکٹھا کرے گا۔ مگر یہ معاندین حق، جزا و سزا کے اس وعدے کا انکار کرتے ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{قل هو الذي ذَرَأكُم في الأرض}؛ أي: بثَّكم في أقطارها، وأسكنَكم في أرجائها، وأمركم ونهاكم، وأسدى عليكم من النِّعم ما به تنتفعون، ثم بعد ذلك يحشُرُكم ليوم القيامةِ، ولكنَّ هذا الوعد بالجزاء ينكِرُه هؤلاء المعاندون.