تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الملك (67) — آیت 21

اَمَّنۡ ہٰذَا الَّذِیۡ یَرۡزُقُکُمۡ اِنۡ اَمۡسَکَ رِزۡقَہٗ ۚ بَلۡ لَّجُّوۡا فِیۡ عُتُوٍّ وَّ نُفُوۡرٍ ﴿۲۱﴾
یا وہ کون ہے جو تمھیں رزق دے، اگر وہ اپنا رزق روک لے؟ بلکہ وہ سرکشی اور بدکنے پر اڑے ہوئے ہیں۔ En
بھلا اگر وہ اپنا رزق بند کرلے تو کون ہے جو تم کو رزق دے؟ لیکن یہ سرکشی اور نفرت میں پھنسے ہوئے ہیں
En
اگر اللہ تعالیٰ اپنی روزی روک لے تو بتاؤ کون ہے جو پھر تمہیں روزی دے گا؟ بلکہ (کافر) تو سرکشی اور بدکنے پر اڑگئے ہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ اَمَّنْ هٰؔذَا الَّذِیْ یَرْزُقُكُمْ اِنْ اَمْسَكَ رِزْقَهٗ یعنی رزق تمام تر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ اگر وہ تم سے رزق کو روک لے تو کون تمھارے لیے رزق بھیج سکتا ہے؟ کیونکہ مخلوق تو خود اپنے رزق پر قادر نہیں، دوسروں کو کیسے رزق دے سکتی ہے؟ بندوں کو جو نعمت عطا ہوتی ہے صرف اللہ کی طرف سے عطا ہوتی ہے۔ پس رزق عطا کرنے والی اور نعمتوں سے بہرہ ور کرنے والی ہی اس بات کی مستحق ہے کہ اسی اکیلے کی عبادت کی جائے۔مگر کفار ﴿لَّجُّوْا جمے ہوئے ہیں ﴿ فِیْ عُتُوٍّ حق کے معاملے میں سختی اور درشتی میں ﴿ وَّنُفُوْرٍ اور نفرت میں۔ یعنی حق سے دور بھاگتے ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{أمّن هذا الذي يرزقُكُم إن أمسَكَ رزقَه}؛ أي: الرزق كلُّه من الله؛ فلو أمسك عنكم الرزق؛ فمن الذي يرسله لكم؟ فإنَّ الخلق لا يقدرون على رزق أنفسِهِم؛ فكيف بغيرهم؟! فالرازق المنعم الذي لا يصيب العبادَ نعمةٌ إلاَّ منه هو الذي يستحقُّ أن يُفْرَدَ بالعبادة، ولكنْ الكافرون {لَجُّوا}؛ أي: استمروا {في عُتُوٍّ}؛ أي: قسوةٍ وعدم لينٍ للحق، {ونُفورٍ}؛ أي: شرودٍ عن الحقِّ.