تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اللہ تعالیٰ اپنے امر سے دور بھاگنے اور حق سے روگردانی کرنے والے سرکشوں سے فرماتا ہے: ﴿ اَمَّنْهٰؔذَاالَّذِیْهُوَجُنْدٌلَّـكُمْیَنْصُرُؔكُمْمِّنْدُوْنِالرَّحْمٰنِ﴾ یعنی جب رحمٰن تمھارے ساتھ کوئی برائی کرنے اارادہ کرے تو کون سا تمھارا لشکر اس برائی کو تم سے دور کرسکتا ہے؟ یعنی رحمان کے سوا تمھارے دشمنوں کے خلاف کون تمھاری مدد کر سکتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ ہی مدد کرنے والا، عزت عطا کرنے والا اور ذلت سے ہم کنار کرنے والا ہے اور اس کے سوا تمام مخلوق کسی بندے کی مدد کے لیے اکٹھی ہو جائے تو کسی بھی دشمن کے خلاف اسے ذرہ بھر فائدہ نہیں دے سکتی۔پس کفار کا یہ جان لینے کے بعد کہ رحمان کے سوا کوئی ان کی مدد نہیں کر سکتا، اپنے کفر پر جمے رہنا فریب اور حماقت کے سوا کچھ نہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يقول تعالى للعتاة النافرين عن أمره، المعرضين عن الحقِّ: {أمّن هذا الذي هو جندٌ لكم ينصُرُكم من دونِ الرحمن}؛ أي: ينصُرُكم إذا أرادَ الرحمن بكم سوءاً فيدفعه عنكم؛ أي: من الذي ينصُرُكم على أعدائكم غير الرحمن؛ فإنَّه تعالى هو الناصر المعزُّ المذلُّ، وغيره من الخلق لو اجتمعوا على نصر عبدٍ لم ينفعوه بمثقال ذرَّةٍ على أيِّ عدوٍّ كان؛ فاستمرارُ الكافرين على كفرهم بعد أن عَلِموا أنَّه لا ينصُرُهم أحدٌ من دون الرحمن غرورٌ وسفهٌ.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔