تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الملك (67) — آیت 22

اَفَمَنۡ یَّمۡشِیۡ مُکِبًّا عَلٰی وَجۡہِہٖۤ اَہۡدٰۤی اَمَّنۡ یَّمۡشِیۡ سَوِیًّا عَلٰی صِرَاطٍ مُّسۡتَقِیۡمٍ ﴿۲۲﴾
تو کیا وہ شخص جو اپنے منہ کے بل الٹا ہو کر چلتا ہے، زیادہ ہدایت والا ہے، یا وہ جو سیدھا ہو کر درست راستے پر چلتا ہے؟ En
بھلا جو شخص چلتا ہوا منہ کے بل گر پڑتا ہے وہ سیدھے رستے پر ہے یا وہ جو سیدھے رستے پر برابر چل رہا ہو؟
En
اچھا وه شخص زیاده ہدایت واﻻ ہے جو اپنے منھ کے بل اوندھا ہو کر چلے یا وه جو سیدھا (پیروں کے بل) راه راست پر چلا ہو؟ En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

یعنی ان دو شخصوں میں سے کون زیادہ ہدایت کی راہ پر ہے؟ کیا وہ شخص جو گمراہی میں سرگشتہ پھرتا ہے، اپنے کفر میں غرق ہے، اور اس کی سمجھ الٹ گئی ہے اس کے نزدیک حق باطل اور باطل حق بن چکا ہے یا وہ شخص جو حق کا علم رکھنے والا، حق کو ترجیح دینے والا، حق پر عمل کرنے والا اور اپنے اقوال و افعال اور تمام احوال میں صراط مستقیم پر گامزن ہے؟ ان دونوں اشخاص کے احوال پر مجرد ایک نظر ڈالنے سے ہدایت یافتہ اور گمراہ کے درمیان فرق معلوم ہو جائے گا۔احوال، اقوال سے بڑے گواہ ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أي: أيُّ الرجلين أهدى؛ من كان تائهاً في الضَّلال غارقاً في الكفر قد انتكس قلبه فصار الحقُّ عنده باطلاً والباطل حقًّا، ومن كان عالماً بالحقِّ، مؤثراً له، عاملاً به، يمشي على الصراط المستقيم في أقواله وأعماله وجميع أحواله؟! فبمجرَّد النظر إلى حال الرجلين؛ يعلم الفرق بينهما والمهتدي من الضالِّ منهما. والأحوالُ أكبرُ شاهدٍ من الأقوال.