تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الملك (67) — آیت 19

اَوَ لَمۡ یَرَوۡا اِلَی الطَّیۡرِ فَوۡقَہُمۡ صٰٓفّٰتٍ وَّ یَقۡبِضۡنَ ؔۘؕ مَا یُمۡسِکُہُنَّ اِلَّا الرَّحۡمٰنُ ؕ اِنَّہٗ بِکُلِّ شَیۡءٍۭ بَصِیۡرٌ ﴿۱۹﴾
اور کیا انھوں نے اپنے اوپر پرندوں کو اس حال میں نہیں دیکھا کہ وہ پر پھیلائے ہوئے ہوتے ہیں اور کبھی سکیڑ لیتے ہیں۔ رحمان کے سوا انھیں کوئی تھام نہیں رہا ہوتا۔ یقینا وہ ہر چیز کو خوب دیکھنے والا ہے۔ En
کیا انہوں نے اپنے سروں پر اڑتے ہوئے جانوروں کو نہیں دیکھا جو پروں کو پھیلائے رہتے ہیں اور ان کو سکیڑ بھی لیتے ہیں۔ خدا کے سوا انہیں کوئی تھام نہیں سکتا۔ بےشک وہ ہر چیز کو دیکھ رہا ہے
En
کیا یہ اپنے اوپر پر کھولے ہوئے اور (کبھی کبھی) سمیٹے ہوئے (اڑنے والے) پرندوں کو نہیں دیکھتے، انہیں (اللہ) رحمٰن ہی (ہوا وفضا میں) تھامے ہوئے ہے۔ بیشک ہر چیز اس کی نگاه میں ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

یہ عتاب ہے اور پرندوں کی حالت پر غور کرنے کی ترغیب ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے مسخر کیا اور پھر ان کے لیے فضا اور ہوا کو مسخر کیا جس میں وہ پرواز کے لیے پر پھیلائے پھرتے ہیں، نیچے اترنے کے لیے اپنے پروں کو اکٹھا کرتے اور اس فضا میں اپنے ارادے اور ضرورت کے مطابق اِدھر اُدھر تیرتے پھرتے ہیں۔ ﴿ مَا یُمْسِكُ٘هُنَّ اِلَّا الرَّحْمٰنُ انھیں اللہ رحمٰن ہی تھامے ہوئے ہے۔ پس رحمان ہی ہے جس نے ان کے لیے فضائے بسیط کو مسخر کیا اور ان کو ایسی حالت میں پیدا کیا جو پرواز کے لیے مناسب ہے۔ پس جو کوئی پرندوں کی حالت میں غور کر کے عبرت حاصل کرتا ہے تو ان کی یہ حالت اس کے لیے قدرت الٰہی اور عنایت ربانی پر دلالت کرتی ہے، نیز اس حقیقت پر دلالت کرتی ہے کہ وہ ایک ہے جس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ ﴿ اِنَّهٗ بِكُ٘لِّ شَیْءٍۭؔ بَصِیْرٌ بے شک ہر چیز اس کی نگاہ میں ہے۔ وہ اپنے بندوں کی ان کے لائقِ احوال اور اپنی حکمت کے تقاضوں کے مطابق تدبیر کرتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

وهذا عتابٌ وحثٌّ على النظر إلى حالة الطير التي سخَّرها الله وسخَّر لها الجوَّ والهواء؛ تصفُّ فيه أجنحتها للطيران وتقبِضُها للوقوع، فتظلُّ سابحةً في الجوِّ متردِّدة فيه بحسب إرادتها وحاجتها، {ما يمسِكُهُنَّ إلاَّ الرحمنُ}: فإنَّه الذي سخَّر لهنَّ الجوَّ وجعل أجسادها وخلقتها في حالة مستعدةٍ للطيران؛ فمن نظر في حالة الطير واعتبر فيها؛ دلَّتْه على قدرة الباري وعنايته الربانيَّة، وأنَّه الواحدُ الأحدُ الذي لا تنبغي العبادة إلاَّ له. {إنَّه بكلِّ شيءٍ بصيرٌ}: فهو المدبِّر لعباده بما يليق بهم وتقتضيه حكمته.