وه ذات جس نے تمہارے لیے زمین کو پست ومطیع کردیا تاکہ تم اس کی راہوں میں چلتے پھرتے رہو اور اللہ کی روزیاں کھاؤ (پیو) اسی کی طرف (تمہیں) جی کر اٹھ کھڑا ہونا ہے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
یعنی وہی ہے جس نے زمین کو مسخر کر دیا اور اسے تمھارا مطیع کر دیا تاکہ تم اس میں ہر وہ چیز حاصل کر سکو جس سے تمھاری حاجات متعلق ہیں، مثلاً: باغات لگانا، عمارتیں تعمیر کرنا، کھیتیاں اگانا اور ایسی شاہراہیں بنانا جو تمھیں دور دراز ملکوں اور شہروں تک پہنچاتی ہیں ﴿ فَامْشُوْافِیْمَنَاكِبِهَا﴾”پس تم اس کی راہوں میں چلو پھرو۔“ یعنی طلب رزق و مکاسب کے لیے ﴿ وَكُلُوْامِنْرِّؔزْقِهٖ١ؕوَاِلَیْهِالنُّشُوْرُ﴾”اور اللہ کے رزق سے کھاؤ اور اسی کی طرف جی اٹھنے کے بعد جانا ہے۔“ یعنی اس گھر سے منتقل ہو کر جسے اللہ تعالیٰ نے تمھارے لیے امتحان گاہ اور ایسا وسیلہ بنایا ہے جس کے ذریعے سے آخرت کے گھر تک پہنچا جاتا ہے، تمھارے مرنے کے بعد تمھیں دوبارہ زندہ کیا جائے گا اور اللہ تعالیٰ کے پاس اکٹھا کیا جائے گا تاکہ وہ تمھیں تمھارے اچھے اور برے اعمال کی جزا و سزا دے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
أي: هو الذي سخَّر لكم الأرضَ وذَلَّلها؛ لتدرِكوا منها كلَّ ما تعلقت به حاجتُكم من غرسٍ وبناءٍ وحرثٍ وطرقٍ يُتَوَصَّلُ بها إلى الأقطار النائية والبلدان الشاسعة، {فامشوا في مناكِبِها}؛ أي: لطلب الرزق والمكاسب، {وكُلوا من رزقِهِ وإليه النشورُ}؛ أي: بعد أن تنتقلوا من هذه الدار التي جَعَلَها الله امتحاناً وبلغةً يُتَبَلَّغُ بها إلى الدار الآخرة؛ تُبعثون بعد موتكم وتُحشرون إلى الله؛ ليجازِيَكم بأعمالكم الحسنة والسيئة.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔