تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
یہ اس شخص کے لیے تہدید و وعید ہے جو اپنی سرکشی، تعدی اور نافرمانی پر جما ہوا ہے جو سزا اور عذاب کے نزول کی موجب ہے، چنانچہ فرمایا: ﴿ ءَاَمِنْتُمْمَّنْفِیالسَّمَآءِ﴾”کیا تم اس سے جو آسمان میں ہے، نڈر ہو۔“ اس سے مراد اللہ تعالیٰ ہے جو اپنی مخلوق پر بلند ہے ﴿ اَنْیَّخْسِفَبِكُمُالْاَرْضَفَاِذَاهِیَتَمُوْرُ﴾”کہ وہ تم کو زمین میں دھنسا دے اور وہ اس وقت حرکت کرنے لگے۔“ تمھیں لے کر کانپنے لگے اور تم ہلاک اور تباہ و برباد ہو جاؤ۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
هذا تهديدٌ ووعيدٌ لمن استمرَّ في طغيانه وتعدِّيه وعصيانه الموجب للنَّكال وحلول العقوبة، فقال: {أأمنتُم مَن في السَّماء}: وهو الله تعالى العالي على خلقه، {أن يخسِفَ بكم الأرضَ فإذا هي تمورُ}: بكم وتضطربُ حتى تَهْلِكوا وتَتْلَفوا.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔