تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الملك (67) — آیت 16

ءَاَمِنۡتُمۡ مَّنۡ فِی السَّمَآءِ اَنۡ یَّخۡسِفَ بِکُمُ الۡاَرۡضَ فَاِذَا ہِیَ تَمُوۡرُ ﴿ۙ۱۶﴾
کیا تم اس سے بے خوف ہو گئے ہو جو آسمان میں ہے کہ وہ تمھیں زمین میں دھنسادے، تو اچانک وہ حرکت کرنے لگے؟ En
کیا تم اس سے جو آسمان میں ہے بےخوف ہو کہ تم کو زمین میں دھنسا دے اور وہ اس وقت حرکت کرنے لگے
En
کیا تم اس بات سے بے خوف ہوگئے ہو کہ آسمانوں واﻻ تمہیں زمین میں دھنسا دے اور اچانک زمین لرزنے لگے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

یہ اس شخص کے لیے تہدید و وعید ہے جو اپنی سرکشی، تعدی اور نافرمانی پر جما ہوا ہے جو سزا اور عذاب کے نزول کی موجب ہے، چنانچہ فرمایا: ﴿ ءَاَمِنْتُمْ مَّنْ فِی السَّمَآءِ کیا تم اس سے جو آسمان میں ہے، نڈر ہو۔ اس سے مراد اللہ تعالیٰ ہے جو اپنی مخلوق پر بلند ہے ﴿ اَنْ یَّخْسِفَ بِكُمُ الْاَرْضَ فَاِذَا هِیَ تَمُوْرُ کہ وہ تم کو زمین میں دھنسا دے اور وہ اس وقت حرکت کرنے لگے۔ تمھیں لے کر کانپنے لگے اور تم ہلاک اور تباہ و برباد ہو جاؤ۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

هذا تهديدٌ ووعيدٌ لمن استمرَّ في طغيانه وتعدِّيه وعصيانه الموجب للنَّكال وحلول العقوبة، فقال: {أأمنتُم مَن في السَّماء}: وهو الله تعالى العالي على خلقه، {أن يخسِفَ بكم الأرضَ فإذا هي تمورُ}: بكم وتضطربُ حتى تَهْلِكوا وتَتْلَفوا.