تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الملك (67) — آیت 11

فَاعۡتَرَفُوۡا بِذَنۡۢبِہِمۡ ۚ فَسُحۡقًا لِّاَصۡحٰبِ السَّعِیۡرِ ﴿۱۱﴾
پس وہ اپنے گناہ کا اقرار کریں گے، سو دوری ہے بھڑکتی ہوئی آگ والوں کے لیے۔ En
پس وہ اپنے گناہ کا اقرار کرلیں گے۔ سو دوزخیوں کے لئے (رحمت خدا سے) دور ہی ہے
En
پس انہوں نے اپنے جرم کا اقبال کر لیا۔ اب یہ دوزخی دفع ہوں (دور ہوں) En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

یعنی ان کے لیے رحمت الٰہی سے دوری، خسارہ اور بدبختی ہے، وہ کتنے بدبخت اور کس قدر ہلاکت میں مبتلا ہیں کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے ثواب کو کھو دیا اور جہنم کا ایندھن بنے، جو ان کے ابدان میں بھڑکتی رہے گی اور ان کے دلوں سے لپٹتی رہے گی!
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

قال تعالى عن هؤلاء الدَّاخلين للنار المعترفين بظلمهم وعنادهم: {فاعْتَرَفوا بذَنبِهِم فسُحقاً لأصحاب السَّعير}؛ أي: بعداً لهم وخسارةً وشقاءً؛ فما أشقاهم وأرداهم؛ حيث فاتهم ثواب الله، وكانوا ملازمين للسعير التي تستعر في أبدانهم، وتَطَّلِعُ على أفئدتهم.