اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو اس آگ سے بچائو جس کا ایندھن لوگ اور پتھر ہیں، اس پر سخت دل، بہت مضبوط فرشتے مقرر ہیں، جو اللہ کی نافرمانی نہیں کرتے جو وہ انھیں حکم دے اور وہ کرتے ہیں جو حکم دیے جاتے ہیں۔
En
مومنو! اپنے آپ کو اور اپنے اہل عیال کو آتش (جہنم) سے بچاؤ جس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہیں اور جس پر تند خو اور سخت مزاج فرشتے (مقرر) ہیں جو ارشاد خدا ان کو فرماتا ہے اس کی نافرمانی نہیں کرتے اور جو حکم ان کو ملتا ہے اسے بجا لاتے ہیں
اے ایمان والو! تم اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو اس آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن انسان ہیں اور پتھر جس پر سخت دل مضبوط فرشتے مقرر ہیں جنہیں جو حکم اللہ تعالیٰ دیتا ہے اس کی نافرمانی نہیں کرتے بلکہ جو حکم دیا جائے بجا ﻻتے ہیں
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
یعنی اے وہ لوگو جن کو اللہ تعالیٰ نے ایمان سے نوازا ہے! ایمان کے لوازمات اور اس کی شرائط کا التزام کرو، اس لیے ﴿ قُوْۤااَنْفُسَكُمْوَاَهْلِیْكُمْنَارًا﴾”اپنے آپ کواور اپنے گھر والوں کو آگ سے بچاؤ “ جو ان برے اوصاف سے متصف ہے۔ نفس کو بچانا یہ ہے کہ اس سے، اطاعت کا، اللہ تعالیٰ کے اوامر کا، اس کے نواہی سے اجتناب کا اور ایسے امور سے توبہ کا التزام کرایا جائے، جن سے اللہ تعالیٰ ناراض ہوتا ہے اور جو عذاب کے موجب ہیں۔اہل و عیال کو بچانا یہ ہے کہ ان کو ادب و علم سکھایا جائے اور ان کو اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل پر مجبور کیا جائے۔پس بندہ صرف اسی وقت محفوظ ہوتا ہے جب وہ اپنے بارے میں اور ان لوگوں کے بارے میں، جو اس کی سرپرستی میں اور اس کے تصرف کے تحت ہوں، اللہ تعالیٰ کے اوامر کی تعمیل کرتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے آگ کے یہ اوصاف اس لیے بیان کیے ہیں تاکہ بندے اللہ تعالیٰ کے حکم کو حقیر سمجھنے سے ڈریں، چنانچہ فرمایا: ﴿ وَّقُوْدُهَاالنَّاسُوَالْحِجَارَةُ﴾”جہنم کا ایندھن لوگ اور پتھر ہوں گے۔“ جیسا کہ فرمایا:﴿ اِنَّـكُمْوَمَاتَعْبُدُوْنَمِنْدُوْنِاللّٰهِحَصَبُجَهَنَّمَ١ؕاَنْتُمْلَهَاوٰرِدُوْنَ﴾ (الانبیاء: 21؍98) ”تم اور تمھارے وہ خود ساختہ معبود جن کی تم اللہ کو چھوڑ کرعبادت کرتے ہو جہنم کا ایندھن ہیں،تمھیں جہنم میں وارد ہونا ہے۔“﴿عَلَیْهَامَلٰٓىِٕكَةٌغِلَاظٌشِدَادٌ﴾”جس پر سخت دل مضبوط فرشتے مقرر ہیں۔“ ان فرشتوں کے اخلاق بہت درشت اور ان کا انتقام بہت برا ہو گا، جہنمی ان کی آوازیں سن کرگھبرائیں گے اور ان کو دیکھ کر خوف کھائیں گے، یہ فرشتے اپنی طاقت و قوت سے جہنمیوں کو رسوا کریں گے اور ان پر اللہ تعالیٰ کے احکام نافذ کریں گے جس نے ان کے بارے میں عذاب کا حتمی فیصلہ کیا ہے اور سخت سزا ان پر واجب کی ہے۔ ﴿ لَّایَعْصُوْنَاللّٰهَمَاۤاَمَرَهُمْوَیَفْعَلُوْنَمَایُؤْمَرُوْنَ ﴾”اللہ انھیں جو حکم دیتا ہے، وہ اس کی نافرمانی نہیں کرتے اور جو حکم انھیں ملتا ہے اسے بجا لاتے ہیں۔“ اس میں بھی مکرم فرشتوں کی مدح، اللہ تعالیٰ کے حکم کے سامنے ان کے سر تسلیم خم کرنے اور اللہ تعالیٰ کے ہر حکم پر ان کی اطاعت کا ذکر ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
أي: يا مَن منَّ الله عليهم بالإيمان! قوموا بلوازمه وشروطه، فَـ {قُوا أنفسكم وأهليكم ناراً} موصوفةً بهذه الأوصاف الفظيعة، ووقاية الأنفس بإلزامها أمر الله امتثالاً ونهيه اجتناباً والتوبة عمَّا يُسْخِطُ الله ويوجب العذاب، ووقاية الأهل والأولاد بتأديبهم وتعليمهم وإجبارهم على أمر الله؛ فلا يسلم العبد إلاَّ إذا قام بما أمر الله به في نفسه وفيمن تحت ولايته من الزوجات والأولاد وغيرهم ممَّن هم تحت ولايته وتصرُّفه، ووصف الله النار بهذه الأوصاف؛ ليزجر عباده عن التَّهاون بأمره، فقال: {وَقودها الناسُ والحجارةُ}؛ كما قال تعالى: {إنَّكم وما تعبُدونَ مِن دونِ اللهِ حَصَبُ جهنَّم أنتم لها وارِدونَ}، {عليها ملائكةٌ غلاظٌ شدادٌ}؛ أي: غليظةٌ أخلاقُهم، شديدٌ انتهارُهم يفزعون بأصواتهم ويزعجون بمرآهم ويهينون أصحابَ النار بقوَّتهم، وينفِّذون فيهم أمرَ الله الذي حتم عليهم بالعذاب ، وأوجب عليهم شدَّة العقاب، {لا يعصونَ اللهَ ما أمَرَهم ويفعلون ما يُؤمرونَ}: وهذا فيه أيضاً مدحٌ للملائكة الكرام، وانقيادهم لأمر الله، وطاعتهم له في كلِّ ما أمرهم به.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔