تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ التحريم (66) — آیت 7

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا لَا تَعۡتَذِرُوا الۡیَوۡمَ ؕ اِنَّمَا تُجۡزَوۡنَ مَا کُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ٪﴿۷﴾
اے لوگو جنھوں نے کفر کیا ! آج بہانے مت بناؤ، تم صرف اسی کا بدلہ دیے جاؤ گے جو تم کیا کرتے تھے ۔ En
کافرو! آج بہانے مت بناؤ۔ جو عمل تم کیا کرتے ہو ان ہی کا تم کو بدلہ دیا جائے گا
En
اے کافرو! آج تم عذر وبہانہ مت کرو۔ تمہیں صرف تمہارے کرتوت کا بدلہ دیا جارہا ہے۔ En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

یعنی قیامت کے روز ان الفاظ میں جہنمیوں کو زجر و توبیخ کی جائے گی، پس ان سے کہا جائے گا:﴿ یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَا تَعْتَذِرُوا الْیَوْمَ اے کافرو! آج عذر مت پیش کرو۔ یعنی عذر پیش کرنے کا وقت چلا گیا اور اس کا فائدہ ختم ہو گیا، اب تو اعمال کی جزا و سزا کے سوا کچھ باقی نہیں اور تم نے اللہ تعالیٰ کے انکار، اس کی آیات کی تکذیب اور اس کے رسولوں اور اولیاء کے ساتھ جنگ کے سوا کچھ آگے نہیں بھیجا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أي: يوبَّخ أهل النار يوم القيامة بهذا التوبيخ، فيقال لهم: {يا أيُّها الذين كفروا لا تعتذروا اليوم}؛ أي: فإنَّه ذهب وقت الاعتذار وزال نفعه، فلم يبقَ الآنَ إلاَّ الجزاء على الأعمال، وأنتم لم تقدِّموا إلاَّ الكفر بالله والتكذيب بآياته ومحاربة رسله وأوليائِهِ.