تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ التحريم (66) — آیت 4

اِنۡ تَتُوۡبَاۤ اِلَی اللّٰہِ فَقَدۡ صَغَتۡ قُلُوۡبُکُمَا ۚ وَ اِنۡ تَظٰہَرَا عَلَیۡہِ فَاِنَّ اللّٰہَ ہُوَ مَوۡلٰىہُ وَ جِبۡرِیۡلُ وَ صَالِحُ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ ۚ وَ الۡمَلٰٓئِکَۃُ بَعۡدَ ذٰلِکَ ظَہِیۡرٌ ﴿۴﴾
اگر تم دونوں اللہ کی طرف توبہ کرو (تو بہتر ہے) کیونکہ یقینا تمھارے دل (حق سے) ہٹ گئے ہیں اور اگر تم اس کے خلاف ایک دوسرے کی مدد کرو تو یقینا اللہ خود اس کا مدد گار ہے اور جبریل اور صالح مومن اور اس کے بعد تمام فرشتے مددگار ہیں۔ En
اگر تم دونوں خدا کے آگے توبہ کرو (تو بہتر ہے کیونکہ) تمہارے دل کج ہوگئے ہیں۔ اور اگر پیغمبر (کی ایذا) پر باہم اعانت کرو گی تو خدا اور جبریل اور نیک کردار مسلمان ان کے حامی (اور دوستدار) ہیں۔ اور ان کے علاوہ (اور) فرشتے بھی مددگار ہیں
En
(اے نبی کی دونوں بیویو!) اگر تم دونوں اللہ کے سامنے توبہ کرلو (تو بہت بہتر ہے) یقیناً تمہارے دل جھک پڑے ہیں اور اگر تم نبی کے خلاف ایک دوسرے کی مدد کرو گی پس یقیناً اس کا کارساز اللہ ہے اور جبریل ہیں اور نیک اہل ایمان اور ان کے علاوه فرشتے بھی مدد کرنے والے ہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ اِنْ تَتُوْبَ٘اۤ اِلَى اللّٰهِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوْبُكُمَا خطاب کا رخ دونوں ازواج مطہرات، حضرت حفصہ اور حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہما کی طرف ہے، جو اس بات کا سبب بنیں، کہ آپ نے اپنے آپ پر اس چیز کو حرام ٹھہرایا جو آپ کو پسند تھی۔ اللہ تعالیٰ نے اس بنا پر دونوں ازواج مطہرات پر عتاب فرمایا، ان کے سامنے توبہ پیش کی اور انھیں آگاہ فرمایا کہ ان کے دل اس چیز سے منحرف ہو گئے جو ان کے لائق تھی، یعنی ورع اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ادب و احترام، نیز یہ کہ وہ آپ کی مخالفت نہ کریں۔ ﴿ وَاِنْ تَ٘ظٰهَرَا عَلَیْهِ اگر تم دونوں ایسے امر پر باہم تعاون کرو گی، جو آپ پر شاق گزرتا ہے اور تمھاری طرف سے یہ رویہ دائم رہا ﴿ فَاِنَّ اللّٰهَ هُوَ مَوْلٰ٘ىهُ وَجِبْرِیْلُ وَصَالِحُ الْمُؤْمِنِیْنَ١ۚ وَالْمَلٰٓىِٕكَةُ بَعْدَ ذٰلِكَ ظَهِیْرٌ تو اللہ اور جبریل نیک کردار مسلمان ان کے حامی ہیں اور ان کے علاوہ فرشتے بھی مددگار ہیں۔ یہ سب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے اعوان و مددگار ہیں، اور جس کے اعوان و انصار یہ لوگ ہوں وہ مدد یافتہ ہے اور دوسرے لوگ، جو آپ کے ساتھ دشمنی کرتے ہیں تو یہ بے یار و مددگار چھوڑے ہوئے ہیں۔یہ سیدالمرسلین رسول مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی سب سے بڑی فضیلت اور سب سے بڑا شرف ہے کہ باری تعالیٰ نے اپنی ذات کریمہ اور اپنی مخلوق میں خاص لوگوں کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اعوان و انصار مقرر فرمایا۔ان آیات کریمہ میں دونوں ازواج مطہرات کے لیے تنبیہ ہے جو مخفی نہیں ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

وقوله: {إن تَتوبا إلى الله فَقَدْ صَغَتْ قلوبُكما}: الخطاب للزوجتين الكريمتين حفصة وعائشة رضي الله عنهما حين كانتا سبباً لتحريم النبيِّ - صلى الله عليه وسلم - على نفسه ما يحبُّه، فعرض الله عليهما التوبة، وعاتبهما على ذلك، وأخبرهما أنَّ قلوبكما قد صَغَتْ؛ أي: مالت وانحرفت عمَّا ينبغي لهنَّ من الورع والأدب مع الرسول - صلى الله عليه وسلم - واحترامه، وأن لا يَشْقُقْنَ عليه، {وإن تَظاهرا عليه}؛ أي: تعاونا على ما يشقُّ عليه ويستمرُّ هذا الأمر منكنَّ، {فإنَّ الله هو مولاهُ وجبريلُ وصالحُ المؤمنين والملائكةُ بعد ذلك ظهيرٌ}؛ أي: الجميع أعوانٌ للرسول مظاهرون. ومَنْ كان هؤلاء أنصاره ؛ فهو المنصور، وغيره إن يناوئه؛ فهو مخذولٌ ، وفي هذا أكبر فضيلة وشرفٍ لسيِّد المرسلين؛ حيث جعل الباري نفسه الكريمة وخواصَّ خلقه أعواناً لهذا الرسول الكريم. وفيه من التَّحذير للزوجتين الكريمتين ما لا يخفى.