تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ {فَقَدْ صَغَتْ قُلُوْبُكُمَا: ”صَغَا يَصْغُوْ صَغْوًا“} (ن) اور {”صَغِيَ يَصْغٰي صَغْيًا“} (س) مائل ہونا، ایک طرف جھک جانا۔ اس سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان دو بیویوں کا ذکر غائب کے صیغے کے ساتھ تھا، جن کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شہد اور ماریہ رضی اللہ عنھا سے اجتناب کی قسم کھائی تھی، اب انھیں مخاطب کر کے توبہ کی تلقین فرمائی ہے۔ اس آیت کی تفسیر تقریباً تمام قدیم مفسرین نے یہ کی ہے کہ اگر تم دونوں اللہ کی طرف توبہ کرو تو یہ تمھارے لیے بہتر ہے اور تمھیں توبہ کرنی ہی چاہیے، کیونکہ تمھارے دل درست بات سے دوسری طرف مائل ہو گئے ہیں اور تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی پسندیدہ چیزوں شہد اور ماریہ رضی اللہ عنھا سے اجتناب کی قسم تک پہنچا کر درست کام نہیں کیا۔ لفظوں کے تھوڑے بہت اختلاف کے ساتھ آیت کا یہی مفہوم طبری، قرطبی، رازی، ابن جُزَیّ، ابن عطیہ، ابو السعود، بغوی، ابن جوزی، سمر قندی اور دوسرے جلیل القدر مفسرین نے بیان فرمایا ہے اور ظاہر بھی یہی ہے، کیونکہ ان ازواج مطہرات کی دلی خواہش کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زینب رضی اللہ عنھا کے ہاں شہد نہ پییں اور اپنی ام ولد ماریہ رضی اللہ عنھا کے پاس نہ جائیں، کسی طرح بھی درست قرار نہیں دی جاسکتی۔ خود اللہ تعالیٰ نے ان کی خواہش کو پورا کرنے کی وجہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر محبت آمیز عتاب فرمایا۔
موجودہ دور کے بعض حضرات نے اس معنی کو ان ازواج مطہرات کی توہین قرار دے کر اس کا انکار کر دیا، ان کے خیال میں اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ان ازواج مطہرات کے دل حق سے ہٹے ہوئے تھے، حالانکہ کسی ایک بات میں کسی شخص کے دل کا میلان نا درست بات کی طرف ہو جائے تو اسے پورے راہ صواب سے ہٹا ہوا نہیں کہہ سکتے اور نہ ہی کسی مفسر کے کسی حاشیۂ خیال میں امہات المومنین کے متعلق کوئی ایسی بات ہے اور یہاں تو امہات المومنین نے اللہ تعالیٰ کے حکم پر سر تسلیم خم کیا اور سچے دل سے توبہ کی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے دنیا اور آخرت میں ان کے لیے ازواج رسول ہونے کا شرف برقرار رکھا، پھر ان کے متعلق کون کہہ سکتا ہے کہ ان کے دل راہِ صواب سے ہٹے ہوئے تھے!؟
ایک مطلب آیت کا یہ ہے اور بعض حضرات نے اسی کو درست اور دوسرے ہر مطلب کو غلط قرار دیا ہے کہ ”اگر تم اللہ کی طرف توبہ کرو تو تم سے کچھ بعید نہیں، کیونکہ تمھارے دل پہلے ہی توبہ کی طرف مائل ہوچکے ہیں۔“ مفسر قرطبی نے پہلے معنی کے علاوہ اس معنی کا ذکر بھی کیا ہے۔ مگر اسی کو درست اور دوسرے معنی کو غلط اور لغت عرب سے ناواقفیت قرار دینا اہل علم کا شیوہ نہیں۔ اہلِ علم کا شیوہ وہ ہے جو قرطبی نے اختیار فرمایا ہے کہ دونوں معنی ذکر فرما دیے، جو راجح تھا اسے پہلے ذکر فرمایا مگر دوسرے کا انکار نہیں کیا۔ یہ بات تسلیم کہ {”صَغَا يَصْغُوْ“} اور {”صَغِيَ يَصْغٰي“} کے الفاظ کسی چیز کی طرف مائل ہونے کے لیے آتے ہیں، مگر اس سے یہ کیسے ثابت ہوا کہ یہ حق ہی کی طرف مائل ہونے کے لیے آتے ہیں، ناحق کی طرف مائل ہونے کے لیے نہیں آتے۔ ناحق کی طرف مائل ہونے کا مفہوم حق سے ہٹنے کے سوا کیا ہو سکتا ہے؟ سورۂ انعام کی آیت (۱۱۳): «وَ لِتَصْغٰۤى اِلَيْهِ اَفْـِٕدَةُ الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ» میں جن لوگوں کا ذکر ہوا ہے اس میں ان کے دل حق کی طرف مائل ہونے کا نہیں بلکہ ناحق ہی کی طرف مائل ہونے کا ذکر ہے۔ اس لیے شاہ ولی اللہ، شاہ عبدالقادر، شاہ رفیع الدین، احمد علی لاہوری، فتح محمد جالندھری اور دوسرے مترجمین نے پہلے مفہوم والا ترجمہ ہی کیا ہے، حتیٰ کہ ایک مترجم صاحب جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کا بہت بلند بانگ دعویٰ رکھتے ہیں اور اہلِ توحید کو گستاخ اور بے ادب قرار دیتے نہیں تھکتے، انھوں نے بھی یہ ترجمہ کیا ہے: ”نبی کی دونوں بیویو! اگر اللہ کی طرف تم رجوع کرو تو ضرور تمھارے دل راہ حق سے کچھ ہٹ گئے ہیں۔“ تو کیا یہ کہا جاسکتا ہے کہ ان کے نزدیک ازواج مطہرات کے دل راہ حق سے کچھ ہٹے ہوئے تھے؟
➌ {وَ اِنْ تَظٰهَرَا عَلَيْهِ: ” تَظٰهَرَا “} باب تفاعل سے فعل مضارع ہے جو اصل میں {”تَتَظَاهَرَانِ“} تھا، ایک تاء تخفیف کے لیے حذف کر دی گئی اور حرف شرط {” اِنْ “ } کی وجہ سے نون اعرابی گر گیا۔ اس کا مادہ {”ظَهْرٌ“} (پشت) ہے۔ باب تفاعل میں تشارک کا معنی ہوتا ہے، ایک دوسرے کی پشت پناہی کرنا، ایک دوسرے کی مدد کرنا۔ {” تَظٰهَرَا “} کے بعد {” عَلَيْهِ “} کا معنی ہے، اس کے خلاف ایک دوسرے کی مدد کرو۔
➍ { فَاِنَّ اللّٰهَ هُوَ مَوْلٰىهُ: ” مَوْلٰي“} کا معنی مالک بھی ہے اور مددگار بھی۔ اگر مالک معنی کریں تو یہ جملہ {” مَوْلٰىهُ “} پر مکمل ہو گیا اور {” جِبْرِيْلُ “} سے {” ظَهِيْرٌ “} تک الگ جملہ ہے، کیونکہ مالک صرف اللہ ہے اور کوئی مالک نہیں، جب کہ مدد اللہ کی طرف سے بھی ہوتی ہے اور بندوں کی طرف سے بھی، جیسا کہ فرمایا: «هُوَ الَّذِيْۤ اَيَّدَكَ بِنَصْرِهٖ وَ بِالْمُؤْمِنِيْنَ» [الأنفال: ۶۲] ”وہی ہے جس نے تجھے اپنی مدد کے ساتھ اور مومنوں کے ساتھ قوت بخشی۔“ اور فرمایا: «اِلَّا تَنْصُرُوْهُ فَقَدْ نَصَرَهُ اللّٰهُ» [التوبۃ: ۴۰] ”اگر تم اس کی مدد نہ کرو تو بلاشبہ اللہ نے اس کی مدد کی۔“ اور فرمایا: «وَ يَنْصُرُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ» [الحشر: ۸] ”اور وہ اللہ اور اس کے رسول کی مدد کرتے ہیں۔“ اور فرمایا: «مَنْ اَنْصَارِيْۤ اِلَى اللّٰهِ» [آل عمران: ۵۲] ”کون ہیں جو اللہ کی طرف میرے مدد گار ہیں؟“ یعنی اگر تم دونوں اللہ کی طرف توبہ کرو تو بہتر ہے اور اگر تم دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف ایک دوسری کی مدد کرو تو ہمارے رسول کو تمھاری کچھ پروا نہیں، کیونکہ اللہ اس کا مالک ہے اور جبریل اور صالح مومنین اور اس کے بعد تمام فرشتے اس کے مددگار اور پشت پناہ ہیں۔ اور اگر {”مَوْلٰي“} کا معنی مددگار کریں تو پہلا جملہ {” صَالِحُ الْمُؤْمِنِيْنَ “} پر پورا ہوگا اور دوسرا جملہ {” وَ الْمَلٰٓىِٕكَةُ “} (مبتدا) سے شروع ہو کر {” ظَهِيْرٌ “} پر ختم ہوگا، یعنی اگر تم دونوں اس کے خلاف ایک دوسری کی مدد کرو تو یقینا اللہ اور جبریل اور صالح مومنین اس کے مددگار ہیں اور اس کے بعد تمام فرشتے اس کے پشت پناہ اور مددگار ہیں۔ یہ دوسرا معنی راجح ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ مالک تو ہر ایک کا ہے، صرف نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا نہیں، ہاں! خاص نصرت اس کی اپنے رسولوں اور ایمان والوں کے ساتھ ہے، کفار کے ساتھ نہیں، جیسا کہ فرمایا: «اِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَ يَوْمَ يَقُوْمُ الْاَشْهَادُ» [المؤمن: ۵۱] ”بے شک ہم اپنے رسولوں کی اور ان لوگوں کی جو ایمان لائے ضرور مدد کرتے ہیں دنیا کی زندگی میں اور اس دن بھی جب گواہ کھڑے ہوں گے۔ “
➎ {صَالِحُ الْمُؤْمِنِيْنَ: ” صَالِحُ “} اسم جنس ہے جو واحد و جمع سب پر بولا جاتا ہے، اس لیے جمع کا لفظ {”صَالِحُوا الْمُؤْمِنِيْنَ“} بولنے کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی۔
➏ { وَ الْمَلٰٓىِٕكَةُ بَعْدَ ذٰلِكَ ظَهِيْرٌ:} یہاں ایک مشہور سوال ہے کہ مبتدا {” الْمَلٰٓىِٕكَةُ “} جمع کی خبر {” ظَهِيْرٌ “} واحد کیوں ہے؟ جواب اس کا یہ ہے کہ {”فَعِيْلٌ“} کا وزن واحد، تثنیہ، جمع اور مذکر و مؤنث سب کے لیے یکساں استعمال ہوتا ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
ان پر اللہ کی طرف سے جو گرفت ہوئی اور کہا گیا کہ تم راہ راست سے ہٹ چکی ہو تو اس کی وجوہ دو تھیں کہ انہوں نے آپس میں باہمی رقابت کی بنا پر رسول اللہ کو ایک ایسی بات پر مجبور کر دیا جو ان کے شایان شان نہ تھی اور اس پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے عتاب بھی نازل ہوا اور اس کا سبب یہی دونوں بنی تھیں اور دوسری یہ کہ انہوں نے نبی کی راز کی بات کو افشا کر کے غیر ذمہ داری کا ثبوت دیا ہے۔ کیونکہ وہ کسی عام آدمی کی بیویاں نہ تھیں بلکہ اس ہستی کی بیویاں تھیں جسے اللہ تعالیٰ نے انتہائی اہم ذمہ داری کے منصب پر مامور فرمایا تھا اور جسے ہر وقت کفار و مشرکین اور منافقین کے ساتھ ایک مسلسل جہاد سے سابقہ درپیش تھا۔ آپ کے ہاں بے شمار ایسی راز کی باتیں ممکن تھیں کہ اگر وقت سے پہلے افشا ہو جاتیں تو اس کار عظیم کے مقصد کو شدید نقصان پہنچ سکتا تھا جو آپ کے ذمہ ڈالا گیا تھا۔ اور اس غلطی پر انہیں ٹوکا اس لیے گیا تھا کہ ازواج مطہرات، بلکہ معاشرہ کے تمام ذمہ دار افراد کی بیویوں کو رازوں کی حفاظت کی تربیت دی جائے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: الحمداللہ! میں اس قسم کی جو بات کہتا مجھے امید لگی رہتی کہ اللہ تعالیٰ میری بات کی تصدیق نازل فرمائے گا، پس اس موقعہ پر بھی آیت تخییر یعنی «عَسَى رَبُّهُ إِن طَلَّقَكُنَّ أَن يُبْدِلَهُ أَزْوَاجًا خَيْرًا مِّنكُنَّ مُسْلِمَاتٍ مُّؤْمِنَاتٍ قَانِتَاتٍ تَائِبَاتٍ عَابِدَاتٍ سَائِحَاتٍ ثَيِّبَاتٍ وَأَبْكَارًا» ۱؎ [66-التحريم:5] اور «وَإِن تَظَاهَرَا عَلَيْهِ فَإِنَّ اللَّـهَ هُوَ مَوْلَاهُ وَجِبْرِيلُ وَصَالِحُ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمَلَائِكَةُ بَعْدَ ذَلِكَ ظَهِيرٌ» ۱؎ [66-التحريم:4]، آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئیں، مجھے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے معلوم ہوا کہ آپ نے اپنی ازواج مطہرات کو طلاق نہیں دی تو میں نے مسجد میں آ کر دروازے پر کھڑا ہو کر اونچی آواز سے سب کو اطلاع دے دی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ازواج مطہرات کو طلاق نہیں دی۔
اسی کے بارے میں آیت «وَإِذَا جَاءَهُمْ أَمْرٌ مِّنَ الْأَمْنِ أَوِ الْخَوْفِ أَذَاعُوا بِهِ وَلَوْ رَدُّوهُ إِلَى الرَّسُولِ وَإِلَىٰ أُولِي الْأَمْرِ مِنْهُمْ لَعَلِمَهُ الَّذِينَ يَسْتَنبِطُونَهُ مِنْهُمْ» ۱؎ [4-النساء:83] آخر تک اتری یعنی ’ جہاں انہیں کوئی امن کی یا خوف کی خبر پہنچی کہ یہ اسے شہرت دینے لگتے ہیں اگر یہ اس خبر کو رسول (صلی اللہ علیہ وسلم ) یا ذی عقل و علم مسلمانوں تک پہنچا دیتے تو بیشک ان میں سے جو لوگ محقق ہیں وہ اسے سمجھ لیتے ‘۔
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ یہاں تک اس آیت کو پڑھ کر فرماتے ”پس اس امر کا استنباط کرنے والوں میں سے میں ہوں“، اور بھی بہت سے بزرگ مفسرین سے مروی ہے کہ «صالح المؤمنین» سے مراد سیدنا ابوبکر، سیدنا عمر رضی اللہ عنہما ہیں، بعض نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا نام بھی لیا لیا ہے بعض نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا۔ ایک ضعیف حدیث میں مرفوعاً صرف سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا نام ہے لیکن سند ضعیف ہے اور بالکل منکر ہے۔
پہلے یہ بیان ہو چکا ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بہت سی باتوں میں قرآن کی موافقت کی جیسے پردے کے بارے میں، بدری قیدیوں کے بارے میں، مقام ابراہیم کو قبلہ ٹھہرانے کے بارے میں، ابن ابی حاتم کی روایت میں ہے کہ مجھے جب امہات المؤمنین رضی اللہ عنھن کی اس رنجش کی خبر پہنچی تو ان کی خدمت میں میں گیا اور انہیں بھی کہنا شروع کیا یہاں تک کہ آخری ام المؤمنین رضی اللہ عنہا کے پاس پہنچا تو مجھے جواب ملا کہ کیا ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خود نصیحت کرنے کے لیے کم ہیں جو تم آ گئے؟ اس پر میں خاموش ہو گیا لیکن قرآن میں آیت «عَسَىٰ رَبُّهُ إِن طَلَّقَكُنَّ أَن يُبْدِلَهُ أَزْوَاجًا خَيْرًا مِّنكُنَّ مُسْلِمَاتٍ مُّؤْمِنَاتٍ قَانِتَاتٍ تَائِبَاتٍ عَابِدَاتٍ سَائِحَاتٍ ثَيِّبَاتٍ وَأَبْكَارًا» ۱؎ [66-التحریم:5] نازل ہوئی۔
صحیح بخاری میں ہے کہ { جواب دینے والی ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا تھیں }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4913]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں { جو بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چپکے سے اپنی بیوی صاحبہ سے کہی تھی اس کا واقعہ یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کی گھر میں تھے وہ تشریف لائیں اور سیدہ ماریہ رضی اللہ عنہا سے آپ کو مشغول پایا تو آپ نے انہیں فرمایا: ”تم عائشہ کو خبر نہ کرنا، میں تمہیں ایک بشارت سناتا ہوں میرے انتقال کے بعد میری خلافت ابوبکر کے بعد تمہارے والد آئیں گے۔ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو خبر کر دی پس سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: اس کی خبر آپ کو کس نے پہنچائی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے علیم و خبیر اللہ نے خبر پہنچائی“، سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں آپ کی طرف نہ دیکھوں گی جب تک آپ ماریہ کو اپنے اوپر حرام نہ کر لیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حرام کر لی اس پر آیت «يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللَّـهُ لَكَ تَبْتَغِي مَرْضَاتَ أَزْوَاجِكَ وَاللَّـهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ» ۱؎ [66-التحريم:1]، نازل ہوئی }۔ ۱؎ [طبرانی کبیر:12640:ضعیف] لیکن اس کی سند مخدوش ہے، مقصد یہ ہے کہ ان تمام روایات سے ان پاک آیتوں کی تفسیر ظاہر ہو گئی۔
«مُسْلِمَاتٍ مُّؤْمِنَاتٍ قَانِتَاتٍ تَائِبَاتٍ عَابِدَاتٍ» کی تفسیر تو ظاہر ہی ہے۔ «سَائِحَاتٍ» کی تفسیر ایک تو یہ ہے کہ روزے رکھنے والیاں ایک مرفوع حدیث میں بھی یہی تفسیر اس لفظ کی آئی ہے جو حدیث سورۃ برات کے اس لفظ کی تفسیر میں گزر چکی ہے کہ اس امت کی سیاحت روزے رکھنا ہے، [تفسیر ابن جریر الطبری:508/14] دوسری تفسیر یہ ہے کہ مراد اس ہجرت کرنے والیاں، لیکن اول قول ہی اولیٰ ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
معجم طبرانی میں ابن یزید رحمہ اللہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آیت میں جو وعدہ فرمایا ہے اس سے مراد بیوہ سے تو سیدہ آسیہ علیہ السلام ہیں جو فرعون کی بیوی تھیں اور کنواری سے مراد سیدہ مریم علیہ السلام ہیں جو عمران کی بیٹی تھیں۔
ابن عساکر میں ہے کہ جبرائیل علیہ السلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اس وقت سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں تو جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا: اللہ تعالیٰ خدیجہ (رضی اللہ عنہا) کو سلام کہتا ہے اور فرماتا ہے کہ انہیں خوشی ہو جنت کے ایک چاندی کے گھر کی جہاں نہ گرمی ہے، نہ تکلیف ہے، نہ شورو غل جو چھیدے ہوئے موتی کا بنا ہوا ہے جس کے دائیں بائیں مریم بنت عمران علیہا السلام اور آسیہ بنت مزاحم علیہا السلام کے مکانات ہیں۔ ۱؎ [ابن عساکر فی تاریخ دمشق،543/19:ضعیف]
اور روایت میں ہے کہ { سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے انتقال کے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے خدیجہ! اپنی سوکنوں سے میرا سلام کہنا۔“ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے کہا: یا رسول اللہ! کیا مجھ سے پہلے بھی کسی سے نکاح کیا تھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، مگر اللہ تعالیٰ نے مریم بنت عمران اور آسیہ زوجہ فرعون اور کلثوم بہن موسیٰ کی ان تینوں کو میرے نکاح میں دے رکھا ہے“ }۔ [ابن عساکر فی تاریخ دمشق،543/19:ضعیف] یہ حدیث بھی ضعیف ہے۔
ابوامامہ سے ابو یعلیٰ میں مروی ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا جانتے ہو اللہ تعالیٰ نے جنت میں میرا نکاح مریم بنت عمران، کلثوم اخت موسیٰ اور آسیہ زوجہ فرعون سے کر دیا ہے“، میں نے کہا: یا رسول اللہ! آپ کو مبارک ہو }۔ ۱؎ [ابن عدی فی الکامل،180/7:ضعیف] یہ حدیث بھی ضعیف ہے اور ساتھ ہی مرسل بھی ہے۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
وقوله: {إن تَتوبا إلى الله فَقَدْ صَغَتْ قلوبُكما}: الخطاب للزوجتين الكريمتين حفصة وعائشة رضي الله عنهما حين كانتا سبباً لتحريم النبيِّ - صلى الله عليه وسلم - على نفسه ما يحبُّه، فعرض الله عليهما التوبة، وعاتبهما على ذلك، وأخبرهما أنَّ قلوبكما قد صَغَتْ؛ أي: مالت وانحرفت عمَّا ينبغي لهنَّ من الورع والأدب مع الرسول - صلى الله عليه وسلم - واحترامه، وأن لا يَشْقُقْنَ عليه، {وإن تَظاهرا عليه}؛ أي: تعاونا على ما يشقُّ عليه ويستمرُّ هذا الأمر منكنَّ، {فإنَّ الله هو مولاهُ وجبريلُ وصالحُ المؤمنين والملائكةُ بعد ذلك ظهيرٌ}؛ أي: الجميع أعوانٌ للرسول مظاهرون. ومَنْ كان هؤلاء أنصاره ؛ فهو المنصور، وغيره إن يناوئه؛ فهو مخذولٌ ، وفي هذا أكبر فضيلة وشرفٍ لسيِّد المرسلين؛ حيث جعل الباري نفسه الكريمة وخواصَّ خلقه أعواناً لهذا الرسول الكريم. وفيه من التَّحذير للزوجتين الكريمتين ما لا يخفى.