تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ التحريم (66) — آیت 3

وَ اِذۡ اَسَرَّ النَّبِیُّ اِلٰی بَعۡضِ اَزۡوَاجِہٖ حَدِیۡثًا ۚ فَلَمَّا نَبَّاَتۡ بِہٖ وَ اَظۡہَرَہُ اللّٰہُ عَلَیۡہِ عَرَّفَ بَعۡضَہٗ وَ اَعۡرَضَ عَنۡۢ بَعۡضٍ ۚ فَلَمَّا نَبَّاَہَا بِہٖ قَالَتۡ مَنۡ اَنۡۢبَاَکَ ہٰذَا ؕ قَالَ نَبَّاَنِیَ الۡعَلِیۡمُ الۡخَبِیۡرُ ﴿۳﴾
اور جب نبی نے اپنی کسی بیوی سے پوشیدہ طور پر کوئی بات کہی، پھر جب اس (بیوی) نے اس بات کی خبر دے دی اور اللہ نے اس (نبی) کو اس کی اطلاع کر دی تو اس (نبی) نے (اس بیوی کو) اس میں سے کچھ بات جتلائی اور کچھ سے اعراض کیا،پھر جب اس (نبیـ) نے اسے یہ (راز فاش کرنے کی) بات بتائی تو اس نے کہا تجھے یہ کس نے بتایا؟ کہا مجھے اس نے بتایا جو سب کچھ جاننے والا، ہر چیز سے باخبر ہے ۔ En
اور (یاد کرو) جب پیغمبر نے اپنی ایک بی بی سے ایک بھید کی بات کہی تو (اس نے دوسری کو بتا دی) ۔ جب اس نے اس کو افشاء کیا اور خدا نے اس (حال) سے پیغمبر کو آگاہ کردیا تو پیغمبر نے ان (بی بی کو وہ بات) کچھ تو بتائی اور کچھ نہ بتائی۔ تو جب وہ ان کو جتائی تو پوچھنے لگیں کہ آپ کو کس نے بتایا؟ انہوں نے کہا کہ مجھے اس نے بتایا ہے جو جاننے والا خبردار ہے
En
اور یاد کر جب نبی نے اپنی بعض عورتوں سے ایک پوشیده بات کہی، پس جب اس نے اس بات کی خبر کر دی اور اللہ نے اپنے نبی کو اس پر آگاه کر دیا تو نبی نے تھوڑی سی بات تو بتا دی اور تھوڑی سی ٹال گئے، پھر جب نبی نے اپنی اس بیوی کو یہ بات بتائی تو وه کہنے لگی اس کی خبر آپ کو کس نے دی۔ کہا سب جاننے والے پوری خبر رکھنے والے اللہ نے مجھے یہ بتلایا ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ وَاِذْ اَسَرَّ النَّبِیُّ اِلٰى بَعْضِ اَزْوَاجِهٖ حَدِیْثًا اور جب پیغمبر نے اپنی ایک بیوی سے ایک راز کی بات کہی تو (اس نے دوسری کو بتادی)۔ بہت سے مفسرین کا قول ہے کہ یہ ام المومنین حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا ہیں، ان کو نبی ٔاکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی راز کی بات کہی اور ان سے کہا کہ وہ آگے کسی کو نہ بتائیں، پس انھوں نے یہ بات حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو بتا دی۔ اور اللہ تعالیٰ نے اس خبر کے بارے میں جو حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے افشا کر دی تھی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو آگاہ کر دیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے حلم اور کرم کی بنا پر اس بات میں سے جو انھوں نے افشاء کی تھی کچھ بات حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کو بتا دی اور کچھ کے بارے میں اعراض کیا ﴿قَالَتْ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے آپ سے عرض کیا: ﴿ مَنْ اَنْۢبـَاَ٘كَ هٰؔذَا یعنی اس خبر سے آپ کو کس نے آگا ہ کیا، جو ہم سے باہر نہیں نکلی؟ ﴿ قَالَ نَبَّاَنِیَ الْعَلِیْمُ الْخَبِیْرُ مجھے علیم وخبیر نے خبر دی ہے۔ جس پر کوئی چیز مخفی نہیں وہ بھیدوں اور چھپی ہوئی چیزوں کو خوب جانتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

وقوله: {وإذْ أسرَّ النبيُّ إلى بعضِ أزواجِهِ حديثاً}: قال كثيرٌ من المفسرين: هي حفصة أم المؤمنين رضي الله عنها، أسرَّ لها النبيُّ - صلى الله عليه وسلم - حديثاً، وأمر أن لا تُخْبِرَ به أحداً، فحدَّثت به عائشة رضي الله عنها، وأخبره الله بذلك الخبر الذي أذاعتْه، فَعرَّفها - صلى الله عليه وسلم - ببعض ما قالتْ وأعرضَ عن بعضِهِ كرماً منه - صلى الله عليه وسلم - وحِلْماً، فقالت له: {مَنْ أنبأكَ هذا}: الخبر الذي لم يَخْرُجْ منَّا، {قال نَبَّأَنِيَ العليمُ الخبيرُ}: الذي لا تخفى عليه خافية، يعلم السرَّ وأخفى.