تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الطلاق (65) — آیت 4

وَ الِّٰٓیۡٔ یَئِسۡنَ مِنَ الۡمَحِیۡضِ مِنۡ نِّسَآئِکُمۡ اِنِ ارۡتَبۡتُمۡ فَعِدَّتُہُنَّ ثَلٰثَۃُ اَشۡہُرٍ ۙ وَّ الِّٰٓیۡٔ لَمۡ یَحِضۡنَ ؕ وَ اُولَاتُ الۡاَحۡمَالِ اَجَلُہُنَّ اَنۡ یَّضَعۡنَ حَمۡلَہُنَّ ؕ وَ مَنۡ یَّتَّقِ اللّٰہَ یَجۡعَلۡ لَّہٗ مِنۡ اَمۡرِہٖ یُسۡرًا ﴿۴﴾
اور وہ عورتیں جو تمھاری عورتوں میں سے حیض سے ناامید ہو چکی ہیں، اگر تم شک کرو تو ان کی عدت تین ماہ ہے اور ان کی بھی جنھیں حیض نہیں آیا اور جو حمل والی ہیں ان کی عدت یہ ہے کہ وہ اپنا حمل وضع کر دیں اور جو کوئی اللہ سے ڈرے گا وہ اس کے لیے اس کے کام میں آسانی پیدا کر دے گا ۔ En
اور تمہاری (مطلقہ) عورتیں جو حیض سے ناامید ہوچکی ہوں اگر تم کو (ان کی عدت کے بارے میں) شبہ ہو تو ان کی عدت تین مہینے ہے اور جن کو ابھی حیض نہیں آنے لگا (ان کی عدت بھی یہی ہے) اور حمل والی عورتوں کی عدت وضع حمل (یعنی بچّہ جننے) تک ہے۔ اور جو خدا سے ڈرے گا خدا اس کے کام میں سہولت پیدا کردے گا
En
تمہاری عورتوں میں سے جو عورتیں حیض سے ناامید ہو گئی ہوں، اگر تمہیں شبہ ہو تو ان کی عدت تین مہینے ہے اور ان کی بھی جنہیں حیض آنا شروع ہی نہ ہوا ہو اور حاملہ عورتوں کی عدت ان کے وضع حمل ہے اور جو شخص اللہ تعالیٰ سے ڈرے گا اللہ اس کے (ہر) کام میں آسانی کر دے گا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

چونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ مامور بہ طلاق، عورتوں کی عدت کے لیے ہے، اس لیے عدت کو بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَّ الّٰٓـِٔيْ یَىِٕسْنَ مِنَ الْ٘مَحِیْضِ مِنْ نِّسَآىِٕكُمْ اِنِ ارْتَبْتُمْ وہ عورتیں جن کو حیض آتا تھا، پھر بڑھاپے یا کسی اور وجہ سے حیض آنا بند ہو گیا اور دوبارہ حیض آنے کی امید نہ رہی تو ان کی عدت ﴿ ثَلٰ٘ثَةُ اَشْ٘هُرٍ تین مہینے ہے ہر حیض کے مقابلے میں ایک مہینہ مقرر کیا ہے۔ ﴿ وَّ الّٰٓـِٔيْ لَمْ یَحِضْ٘نَ یعنی چھوٹی لڑکیاں جن کو ابھی حیض نہیں آیا یا وہ بالغ عورتیں جن کو بالکل حیض نہیں آیا، ان عورتوں کی مانند ہیں جو حیض آنے سے مایوس ہو چکی ہیں، ان کی عدت بھی تین ماہ ہے۔ رہی وہ عورتیں جن کو حیض آتا ہے تو اللہ تعالیٰ نے ان کی عدت اپنے اس ارشا د میں بیان فرمائی ہے: ﴿ وَالْمُطَلَّقٰتُ یَتَرَبَّصْنَ بِاَنْ٘فُ٘سِهِنَّ ثَلٰثَةَ قُ٘رُوْٓءٍ (البقرہ:2؍228) اور مطلقہ عورتیں اپنے آپ کو تین حیض تک روکے رکھیں۔
﴿ وَاُولَاتُ الْاَحْمَالِ اَجَلُ٘هُنَّ اور حمل والی عورتوں کی مقررہ مدت یعنی ان کی عدت ﴿ اَنْ یَّ٘ضَعْنَ حَمْلَهُنَّ وضع حمل تک ہے۔ یعنی ان کے بطن میں جو ایک یا متعدد بچے ہیں، ان کو وہ جنم دے دیں، اس صورت میں مہینوں وغیرہ کا اعتبار نہ ہو گا۔ ﴿ وَمَنْ یَّتَّقِ اللّٰهَ یَجْعَلْ لَّهٗ مِنْ اَمْرِهٖ یُسْرًا یعنی جو تقویٰ اختیار کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے لیے تمام امور کو آسان اور ہر مشکل کو سہل کر دیتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

لمَّا ذكر تعالى أن الطلاق المأمور به يكون لعدَّة النساء؛ ذكر العدَّة، فقال: {واللاَّئي يَئِسْنَ من المحيض من نسائِكُم}: بأن كنَّ يَحِضْنَ ثم ارتفع حيضُهُنَّ لكبرٍ أو غيره ولم يُرْجَ رجوعُه؛ فإنَّ عدَّتها ثلاثة أشهر، جعل كلَّ شهرٍ مقابلة حيضة. {واللاَّئي لم يَحِضْنَ}؛ أي: الصغار اللائي لم يأتهنَّ الحيضُ بعدُ أو البالغات اللاتي لم يأتهنَّ حيضٌ بالكلِّيَّة؛ فإنَّهنَّ كالآيسات، عدَّتهنَّ ثلاثة أشهر، وأمَّا اللائي يحِضْنَ؛ فذكر الله عدَّتهنَّ في قوله: {والمطلَّقاتُ يتربَّصْنَّ بأنفسهنَّ ثلاثةَ قروءٍ}. وقوله: {وأولاتُ الأحمال أجَلُهُنَّ}؛ أي: عدَّتُهنَّ {أن يَضَعْنَ حملَهُنَّ}؛ أي: جميع ما في بطونهنَّ من واحدٍ ومتعددٍ، ولا عبرة حينئدٍ بالأشهر ولا غيرها. {ومن يتَّقِ اللهَ يجعلْ له من أمره يُسراً}؛ أي: من اتَّقى الله يَسَّرَ له الأمور، وسهَّل عليه كلَّ عسير.