اور اسے رزق دے گا جہاں سے وہ گمان نہیں کرتا اور جو کوئی اللہ پر بھروسا کرے تو وہ اسے کافی ہے، بے شک اللہ اپنے کام کو پورا کرنے والا ہے، یقینا اللہ نے ہر چیز کے لیے ایک اندازہ مقرر کیا ہے۔
En
اور اس کو ایسی جگہ سے رزق دے گا جہاں سے (وہم و) گمان بھی نہ ہو۔ اور جو خدا پر بھروسہ رکھے گا تو وہ اس کو کفایت کرے گا۔ خدا اپنے کام کو (جو وہ کرنا چاہتا ہے) پورا کردیتا ہے۔ خدا نے ہر چیز کا اندازہ مقرر کر رکھا ہے
اور اسے ایسی جگہ سے روزی دیتا ہے جس کا اسے گمان بھی نہ ہو اور جو شخص اللہ پر توکل کرے گا اللہ اسے کافی ہوگا۔ اللہ تعالیٰ اپنا کام پورا کرکے ہی رہے گا۔ اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کا ایک اندازه مقرر کر رکھا ہے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:﴿ وَّیَرْزُقْهُمِنْحَیْثُلَایَحْتَسِبُ﴾ اللہ تعالیٰ متقی شخص کے لیے ایسی جگہوں سے رزق پہنچاتا ہے جہاں سے رزق کا آنا اس کے وہم و گمان میں ہوتا ہے نہ اسے اس کا شعور ہوتا ہے۔ ﴿ وَمَنْیَّتَوَؔكَّلْعَلَىاللّٰهِ﴾ اور جو کوئی اپنے دین اور دنیا کے معاملات میں اللہ تعالیٰ پر توکل کرتا ہے، یعنی کسی چیز کے حصول میں جو اس کے لیے نفع مند ہو اور کسی چیز کو دور ہٹانے میں جو اس کے لیے ضرر رساں ہو، اللہ تعالیٰ پر اعتماد اور اس میں آسانی پیدا کرنے میں اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرتا ہے ﴿ فَهُوَحَسْبُهٗ﴾ تو وہ اس معاملے میں اس کے لیے کافی ہو جاتا ہے، جس میں اس نے اس پر بھروسہ کیا تھا۔ جب معاملہ غنی، قوی، غالب اور نہایت رحم والی ہستی کی کفالت میں ہے تو وہ ہستی بندے کے ہر چیز سے زیادہ قریب ہے۔ مگر بسا اوقات حکمت الٰہیہ مناسب وقت تک اس کی تاخیر کا تقاضا کرتی ہے۔ بنابریں فرمایا: ﴿ اِنَّاللّٰهَبَ٘الِغُ٘اَمْرِهٖ﴾”بے شک اللہ اپنے کام کو پورا کردیتا ہے۔“ یعنی اس کی قضا و قدر کا نافذ ہونا لازمی امر ہے، مگر ﴿قَدْجَعَلَاللّٰهُلِكُ٘لِّشَیْءٍقَدْرًؔا﴾ اس نے ایک وقت اور ایک مقدار مقررکر رکھی ہے جس سے یہ چیز تجاوز کرتی ہے نہ کوتاہی کرتی ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
وقوله: {ويرزُقْه من حيث لا يحتسِبُ}؛ أي: يسوق الله الرزق للمتَّقي من وجه لا يحتسبه ولا يشعر به، {ومن يَتَوَكَّلْ على الله}: في أمر دينه ودنياه؛ بأن يعتمد على الله في جلب ما ينفعه ودفع ما يضرُّه ويثق به في تسهيل ذلك {فهو حسبُه}؛ أي: كافيه الأمر الذي توكَّل عليه فيه ، وإذا كان الأمرُ في كفالة الغنيِّ القويِّ العزيز الرحيم؛ فهو أقرب إلى العبد من كل شيء، ولكن ربَّما أن الحكمة الإلهيَّة اقتضت تأخيره إلى الوقت المناسب له؛ فلهذا قال تعالى: {إنَّ الله بالغُ أمرِه}؛ أي: لا بدَّ من نفوذ قضائه وقدره، ولكنه قد جعل {لكلِّ شيءٍ قَدْرَاً}؛ أي: وقتاً ومقداراً لا يتعدَّاه ولا يقصر عنه.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔