تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ {” اِنِ ارْتَبْتُمْ “} (اگر تمھیں شک ہو) کے تین مطلب ہو سکتے ہیں، ایک یہ کہ اگر تمھیں شک ہو کہ عدت تو حیض سے شمار ہوتی ہے اور ان عورتوں کا حیض بند ہے یا آیا ہی نہیں تو ان کی عدت کا کیا کیا جائے، تو ہم تمھیں بتاتے ہیں کہ ان کی عدت تین قمری مہینے ہے۔ ابن کثیر نے فرمایا کہ یہ سعید بن جبیر سے مروی ہے اور ابن جریر نے یہی معنی پسند فرمایا ہے اور معنی کے لحاظ سے زیادہ ظاہر یہی ہے۔ ابن جریر نے اس پر اُبی بن کعب رضی اللہ عنہ کی روایت بطور دلیل ذکر فرمائی ہے کہ انھوں نے عرض کیا: ”یا رسول اللہ! کئی طرح کی عورتوں کی عدت کا ذکر قرآن میں نہیں آیا، یعنی چھوٹی عمر کی عورتیں، عمر رسیدہ عورتیں اور حاملہ عورتیں۔ تو اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: «وَ الّٰٓـِٔيْ يَىِٕسْنَ مِنَ الْمَحِيْضِ مِنْ نِّسَآىِٕكُمْ» ”اور وہ عورتیں جو تمھاری عورتوں میں سے حیض سے ناامید ہو چکی ہیں۔“ ابن کثیر نے اس کے علاوہ ابن ابی حاتم کی سند کے ساتھ اسی مفہوم کی مفصل روایت ذکر کی ہے، مگر تفسیر ابن کثیر کے محقق حکمت بن بشیر نے فرمایا کہ ان دونوں کی سند میں عمرو بن سالم (ابو عثمان انصاری) راوی ہے جسے تقریب میں مقبول کہا گیا ہے، یعنی اس کی متابعت ہو تو اس کی روایت قبول ہے ورنہ کمزور ہے اور یہاں اس کی متابعت نہیں کی گئی، لہٰذا اس کی سند ضعیف ہے۔ اس تفسیر کے مطابق {” اِنِ ارْتَبْتُمْ “} کے الفاظ کا کوئی خاص فائدہ نظر نہیں آتا۔
دوسرا مطلب یہ ہے کہ اگر ایسی عورتوں کو جو حیض سے مایوس ہو چکی ہیں، بیماری کا خون (استحاضہ) شروع ہو جائے اور تم فیصلہ نہ کر سکو کہ یہ حیض ہے یا استحاضہ تو ان کی عدت تین قمری مہینے ہے۔ یہ مجاہد اور زہری کا قول ہے۔ [طبري: 69/23، ح: ۳۴۶۱۷، ۳۴۶۱۸، بسند صحیح] اس سے ظاہر ہے کہ جب شک کی صورت میں ان کی عدت تین ماہ ہے تو اگر انھیں کسی قسم کا خون آتا ہی نہیں اور ان کے حیض سے مایوس ہونے میں کوئی شک ہی نہیں تو ان کی عدت بالاولیٰ تین ماہ ہے۔ تیسرا مطلب یہ ہے کہ اگرچہ عام قاعدہ یہی ہے کہ جن عورتوں کا حیض بند ہو گیا ہو یا شروع ہی نہ ہوا ہو انھیں حمل نہیں ہوتا، مگر شاذ و نادر ایسی عورتوں کو بھی حمل ہو جاتا ہے اور یہاں مسئلہ ان عورتوں کا بیان ہو رہا ہے جنھیں دخول کے بعد طلاق دی گئی ہے، اس میں حمل کا امکان بہر حال رہتا ہے۔ سو اگر تمھیں آثار سے ان کے حاملہ ہونے کا شک پڑ جائے تو ان کی عدت تین ماہ ہے، اتنی مدت میں ان کا حاملہ ہونا یا نہ ہونا واضح ہو جائے گا۔ اگر حاملہ نہ ہوں تو عدت تین ماہ ہی ہے اور اگر حمل ظاہر ہو جائے تو ان کی عدت وضع حمل ہے، جیسا کہ فرمایا: «وَ اُولَاتُ الْاَحْمَالِ اَجَلُهُنَّ اَنْ يَّضَعْنَ حَمْلَهُنَّ» کہ حمل والی عورتوں کی عدت وضع حمل ہے۔ اس سے ظاہر ہے کہ اگر حیض سے مایوس عمر رسیدہ عورت یا ایسی عورت جسے حیض آیا ہی نہیں اور ان کے متعلق حمل کا کوئی شک بھی نہ ہو تو ان کی عدت بالاولیٰ تین ماہ ہے۔
➌ { وَ الّٰٓـِٔيْ يَىِٕسْنَ:} یعنی وہ عورتیں جنھیں حیض آیا ہی نہیں ان کی عدت بھی تین ماہ ہے۔ اس میں چھوٹی عمر کی عورتیں بھی شامل ہیں جنھیں ابھی حیض نہ آیا ہو اور بڑی عمر کی عورتیں بھی جنھیں کسی وجہ سے حیض شروع ہی نہیں ہو سکا۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ چھوٹی عمر کی لڑکی سے نکاح ہو سکتا ہے اور اس کا خاوند اس سے جماع بھی کر سکتا ہے۔ کفار کے کہنے پر چھوٹی عمر کی شادی پر پابندی لگانا یا بالغ ہو جانے والی لڑکیوں کی شادی پر اٹھارہ سال کی یا کسی مخصوص عمر کی پابندی لگانا اللہ تعالیٰ کے احکام کی صریح مخالفت ہے۔
➍ { وَ اُولَاتُ الْاَحْمَالِ اَجَلُهُنَّ اَنْ يَّضَعْنَ حَمْلَهُنَّ: ” اُولَاتُ “ ”ذَاتٌ“} کی جمع ہے جیسا کہ {”أُوْلُوْ“ ”ذُوْ“} کی جمع ہے۔ {” اُولَاتُ الْاَحْمَالِ “} حمل والیاں۔ آیت کے الفاظ عام ہیں، اس لیے حاملہ عورت کی عدت وضع حمل ہی ہے، خواہ اس کے خاوند نے اسے طلاق دی ہو یا اس کا خاوند فوت ہو جائے۔ صحیح احادیث سے بھی یہی بات ثابت ہے کہ حاملہ عورت کا خاوند فوت ہو جائے تو بچہ پیدا ہونے کے ساتھ اس کی عدت ختم ہو جائے گی، خواہ خاوند فوت ہونے کے فوراً بعد بچہ پیدا ہو جائے یا کئی ماہ کے بعد پیدا ہو۔ ام سلمہ رضی اللہ عنھا بیان کرتی ہیں کہ سبیعہ اسلمیہ کے ہاں ان کے خاوند کے قتل ہونے کے چالیس دن بعد بچہ پیدا ہوگیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں نکاح کرنے کی اجازت دے دی۔ [بخاري، التفسیر، باب: «و أولات الأحمال أجلہن…» : ۴۹۰۹] رہی وہ عورتیں جو حاملہ نہ ہوں اور ان کے خاوند فوت ہو جائیں تو ان کی عدت چار ماہ دس دن ہے۔ دیکھیے سورۂ بقرہ (۲۳۴)۔
➎ { وَ مَنْ يَّتَّقِ اللّٰهَ يَجْعَلْ لَّهٗ مِنْ اَمْرِهٖ يُسْرًا:} اس سورت میں بار بار اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہنے کی تاکید کی گئی ہے، وجہ یہ ہے کہ میاں بیوی کے مسائل بھی کچھ ایسے ہوتے ہیں کہ جب تک آدمی ہر وقت اللہ سے ڈرتا نہ رہے وہ اپنی بیوی کے معاملہ میں بے راہ رو ہو جاتا ہے، اس لیے کتاب و سنت میں اپنی بیویوں سے حسن سلوک کی بار بار تاکید آئی ہے۔ (کیلانی) اس مقام کی مناسبت سے اس کے کام میں آسانی پیدا کرنے کا مطلب یہ ہے کہ جو اللہ سے ڈرے گا اوّل تو طلاق کے وقت کے انتظار کی وجہ سے طلاق کی نوبت ہی نہیں آئے گی اور اگر اللہ کے مقرر کردہ طریقے کے مطابق طلاق دے گا تو عدت کے اندر اسے رجوع کا حق حاصل رہے گا اور اگر عدت ختم ہو جائے تو دوبارہ نکاح کا موقع باقی رہے گا۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[16] عورت مطلقہ ہو یا بیوہ ہو یعنی اس کا خاوند فوت ہو جائے اس کی عدت وضع حمل تک ہو گی۔ جیسا کہ اسی سورۃ کی پہلی آیت کے حاشیہ نمبر 1 میں اس کی وضاحت پیش کی جا چکی ہے۔
[17] اس سورت میں بار بار اللہ سے ڈرتے رہنے کی تاکید کی گئی ہے وجہ یہ ہے کہ ازدواجی زندگی کے مسائل بھی کچھ ایسے ہوتے ہیں کہ جب تک انسان ہر وقت اللہ سے ڈرتا نہ رہے وہ اپنی بیوی کے معاملہ میں بے راہ رو ہو جاتا ہے اور اسی لیے کتاب و سنت میں اپنی بیویوں سے حسن سلوک کی بار بار تاکید آئی ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اسی طرح وہ لڑکیاں جو اس عمر کو نہیں پہنچیں کہ انہیں حیض آئے، ان کی عدت بھی یہی تین مہینے رکھی، اگر تمہیں شک ہو، اس کی تفسیر میں دو قول ہیں ایک تو یہ کہ خون دیکھ لیں اور تمہیں شبہ گزرے کہ آیا حیض کا خون ہے یا استخاضہ کی بیماری کا۔
پھر حاملہ کی عدت بیان فرمائی کہ ’ وضع حمل اس کی عدت ہے، گو طلاق یا خاوند کی موت کے ذرا سی دیر بعد ہی ہو جائے ‘، جیسے کہ اس آیت کریمہ کے الفاظ ہیں اور احادیث نبویہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے اور جمہور علماء سلف و خلف کا قول ہے۔
ہاں سیدنا علی ابن طالب اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہم سے مروی ہے کہ سورۃ البقرہ کی آیت اور اس آیت کو ملا کر ان کا فتویٰ یہ ہے کہ ان دونوں میں سے جو زیادہ دیر میں ختم ہو وہ عدت یہ گزارے یعنی اگر بچہ تین مہینے سے پہلے پیدا ہو گیا تو تین مہینے کی عدت ہے اور تین مہینے گزر چکے اور بچہ نہیں ہوا تو بچے کے ہونے تک عدت ہے۔“
میں یہ سن کر چادر اوڑھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بچہ پیدا ہوتے ہی تم عدت سے نکل گئیں اب تمہیں اختیار ہے اگر چاہو تو اپنا نکاح کر لو“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3991]
ابن جریر میں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جو «ملاعنہ» کرنا چاہے، میں اس سے «ملاعنہ» کرنے کو تیار ہوں یعنی میرے فتوے کے خلاف جس کا فتویٰ ہو میں تیار ہوں کہ وہ میرے مقابلہ میں آئے اور جھوٹے پر اللہ لعنت کرے، میرا فتویٰ یہ ہے کہ حمل والی کی عدت بچہ کا پیدا ہو جانا ہے، پہلے عام الحکم تھا کہ جن عورتوں کے خاوند مر جائیں وہ چار مہینے دس دن عدت گزاریں اس کے بعد یہ آیت نازل ہوئی کہ حمل والیوں کی عدت بچے کا پیدا ہو جانا ہے پس یہ عورتیں ان عورتوں میں سے مخصوص ہو گئیں اب مسئلہ یہی ہے کہ جس عورت کا خاوند مر جائے اور وہ حمل سے ہو تو جب حمل سے فارغ ہو جائے، عدت سے نکل گئی۔
مسند احمد میں ہے کہ { ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ حمل والیوں کی عدت جو وضع حمل ہے یہ تین طلاق والیوں کی عدت ہے یا فوت شدہ خاوند والیوں کی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دونوں کی“ }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:34317:ضعیف] یہ حدیث بہت غریب ہے بلکہ منکر ہے اس لیے کہ اس کی اسناد میں مثنی بن صباح ہے اور وہ بالکل متروک الحدیث ہے، لیکن اس کی دوسری سندیں بھی ہیں۔
پھر فرماتا ہے ’ اللہ تعالیٰ متقیوں کے لیے ہر مشکل سے آسانی اور ہر تکلیف سے راحت عنایت فرما دیتا ہے، یہ اللہ کے احکام اور اس کی پاک شریعت ہے جو اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے سے تمہاری طرف اتار رہا ہے اللہ سے ڈرنے والوں کو اللہ تعالیٰ اور چیزوں کے ڈر سے بچا لیتا ہے اور ان کے تھوڑے عمل پر بڑا اجر دیتا ہے ‘۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
لمَّا ذكر تعالى أن الطلاق المأمور به يكون لعدَّة النساء؛ ذكر العدَّة، فقال: {واللاَّئي يَئِسْنَ من المحيض من نسائِكُم}: بأن كنَّ يَحِضْنَ ثم ارتفع حيضُهُنَّ لكبرٍ أو غيره ولم يُرْجَ رجوعُه؛ فإنَّ عدَّتها ثلاثة أشهر، جعل كلَّ شهرٍ مقابلة حيضة. {واللاَّئي لم يَحِضْنَ}؛ أي: الصغار اللائي لم يأتهنَّ الحيضُ بعدُ أو البالغات اللاتي لم يأتهنَّ حيضٌ بالكلِّيَّة؛ فإنَّهنَّ كالآيسات، عدَّتهنَّ ثلاثة أشهر، وأمَّا اللائي يحِضْنَ؛ فذكر الله عدَّتهنَّ في قوله: {والمطلَّقاتُ يتربَّصْنَّ بأنفسهنَّ ثلاثةَ قروءٍ}. وقوله: {وأولاتُ الأحمال أجَلُهُنَّ}؛ أي: عدَّتُهنَّ {أن يَضَعْنَ حملَهُنَّ}؛ أي: جميع ما في بطونهنَّ من واحدٍ ومتعددٍ، ولا عبرة حينئدٍ بالأشهر ولا غيرها. {ومن يتَّقِ اللهَ يجعلْ له من أمره يُسراً}؛ أي: من اتَّقى الله يَسَّرَ له الأمور، وسهَّل عليه كلَّ عسير.