تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ التغابن (64) — آیت 6

ذٰلِکَ بِاَنَّہٗ کَانَتۡ تَّاۡتِیۡہِمۡ رُسُلُہُمۡ بِالۡبَیِّنٰتِ فَقَالُوۡۤا اَبَشَرٌ یَّہۡدُوۡنَنَا ۫ فَکَفَرُوۡا وَ تَوَلَّوۡا وَّ اسۡتَغۡنَی اللّٰہُ ؕ وَ اللّٰہُ غَنِیٌّ حَمِیۡدٌ ﴿۶﴾
یہ اس لیے کہ حقیقت یہ ہے کہ ان کے پاس ان کے رسول واضح دلیلیں لے کر آتے تھے تو انھوں نے کہا کیا کوئی بشرہماری رہنمائی کریں گے؟ پس انھوں نے انکار کر دیا اور منہ پھیر لیا اور اللہ نے پروا نہ کی اور اللہ بے پروا ہے، تمام خوبیوں والا ہے۔ En
یہ اس لئے کہ ان کے پاس پیغمبر کھلی نشانیاں لے کر آئے تو یہ کہتے کہ کیا آدمی ہمارے ہادی بنتے ہیں؟ تو انہوں نے (ان کو) نہ مانا اور منہ پھیر لیا اور خدا نے بھی بےپروائی کی۔ اور خدا بےپروا (اور) سزاوار حمد (وثنا) ہے
En
یہ اس لیے کہ ان کے پاس ان کے رسول واضح دﻻئل لے کر آئے تو انہوں نے کہہ دیا کہ کیا انسان ہماری رہنمائی کرے گا؟ پس انکار کر دیا اور منھ پھیر لیا اور اللہ نے بھی بےنیازی کی، اور اللہ تو ہے ہی بہت بےنیاز سب خوبیوں واﻻ En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

بنابریں اللہ تعالیٰ نے اس عقوبت کا سبب بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ ذٰلِكَ یہ سزا اور وبال جو ہم نے ان پر نازل کیا ہے، اس سبب سے ہے ﴿ بِاَنَّهٗ كَانَتْ تَّاْتِیْهِمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ کہ ان کے رسول ان کے پاس واضح دلائل لے کر آئے جو حق اور باطل پر دلالت کرتے تھے، مگر انھوں نے ناگواری سے منہ پھیر لیا اور اپنے رسولوں کے ساتھ تکبر سے پیش آئے۔ اور کہنے لگے: ﴿ اَبَشَرٌ یَّهْدُوْنَنَا کیا ایک بشر ہماری راہنمائی کرتا ہے؟ یعنی انھیں ہم پر کوئی فضیلت حاصل نہیں، تب کس بنا پر اللہ نے ہمیں چھوڑ کر انھیں (نبوت کے لیے) مختص کیا۔ جیسا کہ ایک دوسری آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ قَالَتْ لَهُمْ رُسُلُهُمْ اِنْ نَّحْنُ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثْلُكُمْ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ یَمُنُّ عَلٰى مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ (ابراہیم:14؍11) ان کے رسولوں نے ان سے کہا: ہم بھی تمھاری مانند بشر ہی ہیں مگر اللہ اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے، نواز دیتا ہے۔ پس انھوں نے اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم کو انبیائے کرام علیہم السلام سے روک دیا کہ وہ مخلوق کی طرف اللہ تعالیٰ کے رسول ہوں اور تکبر سے ان کی اطاعت نہ کی۔ اور اس طرح وہ شجر و حجر کی عبادت میں مبتلا ہو گئے۔
﴿ فَكَ٘ـفَرُوْا پس انھوں نے اللہ تعالیٰ کا انکار کیا ﴿ وَتَوَلَّوْا اور اس کی اطاعت سے منہ موڑ گئے ﴿ وَّاسْتَغْنَى اللّٰهُ اور اللہ تعالیٰ ان سے بے نیاز ہے اور وہ ان کی پروانہیں کرتا اور ان کی گمراہی اسے کچھ نقصان نہیں پہنچا سکتی۔ ﴿ وَاللّٰهُ غَنِیٌّ حَمِیْدٌ وہ ایسا غنی ہے جو ہر لحاظ سے غنائے کامل اور مطلق کا مالک ہے۔ وہ اپنے اقوال، افعال اور اوصاف میں قابل تعریف ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ولهذا ذكر السبب في هذه العقوبة، فقال: {ذلك}: النكال والوبال الذي أحللناه بهم {بأنَّه كانت تأتيهم رُسُلُهم بالبيناتِ}؛ أي: بالآيات الواضحات الدالَّة على الحقِّ والباطل، فاشمأزُّوا واستكبروا على رسلهم، وقالوا: {أبشرٌ يهدونَنا}؛ أي: ليس لهم فضلٌ علينا؛ ولأيِّ شيءٍ خصَّهم الله دوننا؟! كما قال في الآية الأخرى: {قالتْ لهم رسُلُهم إن نحنُ إلاَّ بشرٌ مثلُكم ولكنَّ الله يمنُّ على مَن يشاءُ من عبادِه}: فهم حجروا فضل الله ومنَّته على أنبيائه أن يكونوا رسلاً للخلق، واستكبروا عن الانقياد لهم، فابْتُلوا بعبادة الأشجار والأحجار ونحوها، {فكفروا} بالله، {وتولَّوا} عن طاعته، {واستغنى الله} عنهم؛ فلا يبالي بهم ولا يضرُّه ضلالهم شيئاً. {والله غنيٌّ حميدٌ}؛ أي: هو الغنيُّ الذي له الغنى التامُّ المطلقُ من جميع الوجوه، الحميد في أقواله وأفعاله وأوصافه.