تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ التغابن (64) — آیت 7

زَعَمَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡۤا اَنۡ لَّنۡ یُّبۡعَثُوۡا ؕ قُلۡ بَلٰی وَ رَبِّیۡ لَتُبۡعَثُنَّ ثُمَّ لَتُنَبَّؤُنَّ بِمَا عَمِلۡتُمۡ ؕ وَ ذٰلِکَ عَلَی اللّٰہِ یَسِیۡرٌ ﴿۷﴾
وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا انھوں نے گمان کیا کہ وہ ہرگز اٹھائے نہیں جائیں گے۔ کہہ دے کیوں نہیں؟ میرے رب کی قسم! تم ضرور بالضرور اٹھائے جاؤ گے، پھر تمھیں ضرور بالضرور بتایا جائے گا جو تم نے کیا اور یہ اللہ پربہت آسان ہے ۔ En
جو لوگ کافر ہیں ان کا اعتقاد ہے کہ وہ (دوبارہ) ہرگز نہیں اٹھائے جائیں گے۔ کہہ دو کہ ہاں ہاں میرے پروردگار کی قسم تم ضرور اٹھائے جاؤ گے پھر جو کام تم کرتے رہے ہو وہ تمہیں بتائے جائیں گے اور یہ (بات) خدا کو آسان ہے
En
ان کافروں نے خیال کیا ہے کہ دوباره زنده نہ کیے جائیں گے۔ آپ کہہ دیجئے کہ کیوں نہیں اللہ کی قسم! تم ضرور دوباره اٹھائے جاؤ گے پھر جو تم نے کیا ہے اس کی خبر دیئے جاؤ گے اور اللہ پر یہ بالکل ہی آسان ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ کفار کے عناد، ان کے زعم باطل اور ان کے کسی علم، کسی ہدایت اور کسی روشن کتاب کے بغیر قیامت کو جھٹلانے کے متعلق آگاہ کرتا ہے۔ پس اس نے اپنی مخلوق میں سے بہترین ہستی کو حکم دیا کہ وہ اس بات پر اپنے رب کی قسم کھائیں کہ ان کے مرنے کے بعد ان کو دوبارہ زندہ کیا جائے گا، پھر ان کو ان کے اعمال بد اور ان کی تکذیب حق کی سزا دی جائے گی ﴿ وَذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرٌ اور یہ اللہ کے لیے آسان ہے۔ خواہ یہ مخلوق کی نسبت سے بہت مشکل بلکہ ناممکن ہی ہو کیونکہ اگر تمام مخلوق کے قویٰ ایک مردہ چیز کو زندہ کرنے کے لیے اکٹھے ہو جائیں تو وہ اس کو زندہ کرنے پر قادر نہیں۔ رہا اللہ تعالیٰ، تو وہ جب کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو فرماتا ہے: ہو جا تو وہ ہو جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:﴿ وَنُ٘فِخَ فِی الصُّوْرِ فَصَعِقَ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَمَنْ فِی الْاَرْضِ اِلَّا مَنْ شَآءَ اللّٰهُ١ؕ ثُمَّ نُ٘فِخَ فِیْهِ اُخْرٰى فَاِذَا هُمْ قِیَامٌ یَّنْظُ٘رُوْنَ (الزمر: 39؍68) جب صور پھونکا جائے گا، تو وہ تمام لوگ جو آسمانوں اور زمین میں ہیں، بے ہوش ہو جائیں گے، سوائے اس کے جسے اللہ (بے ہوش کرنا نہ) چاہے، پھر اسے دوسری مرتبہ پھونکا جائے گا تو اسی لمحہ سب اٹھ کھڑے ہوں گے اور دیکھ رہے ہوں گے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يخبر تعالى عن عناد الكافرين وزعمهم الباطل وتكذيبهم بالبعث بغير علمٍ ولا هدىً ولا كتابٍ منيرٍ، فأمر أشرف خلقِهِ أن يُقْسِمَ بربِّه على بعثهم وجزائهم بأعمالهم الخبيثة وتكذيبهم بالحقِّ. {وذلك على الله يسيرٌ}: فإنَّه وإن كان عسيراً، بل متعذِّراً بالنسبة إلى الخلق؛ فإنَّ قُواهم كلهم لو اجتمعت على إحياء ميتٍ واحدٍ؛ ما قدروا على ذلك، وأمَّا الله تعالى، فإنَّه إذا أراد شيئاً؛ قال له: كنْ فيكون؛ قال تعالى: {ونُفِخَ في الصُّورِ فَصَعِقَ مَن في السموات ومن في الأرض إلاَّ مَن شاء الله ثم نُفِخَ فيه أخرى فإذا هم قيامٌ ينظُرونَ}.