کیا تمھارے پاس ان لوگوں کی خبر نہیں آئی جنھوںنے اس سے پہلے کفر کیا، پھر اپنے کام کا وبال چکھا اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے ۔
En
کیا تم کو ان لوگوں کے حال کی خبر نہیں پہنچی جو پہلے کافر ہوئے تھے تو انہوں نے اپنے کاموں کی سزا کا مزہ چکھ لیا اور (ابھی) دکھ دینے والا عذاب (اور) ہونا ہے
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
جب اللہ تعالیٰ نے اپنے کامل اور عظیم اوصاف کا ذکر فرمایا جن کے ذریعے سے اس کی معرفت حاصل ہوتی ہے اور اس کی عبادت کی جاتی ہے، اس کی رضا کے حصول میں کوشش کی جاتی ہے اور اس کی ناراضی سے اجتناب کیا جاتا ہے، تب اس نے آگاہ فرمایا کہ اس نے گزشتہ قوموں اور گزرے ہوئے زمانوں کے ساتھ کیا کیا جن کی خبریں متاخرین بیان کرتے چلے آئے ہیں اور سچے لوگ ان سے آگاہ کرتے رہے ہیں کہ جب ان کے رسول ان کے پاس حق لے کر آئے تو انھوں نے ان کو جھٹلایا اور ان کے ساتھ عناد رکھا۔ پس اللہ تعالیٰ نے انھیں دنیا کے اندر ان کے کرتوتوں کے وبال کا مزا چکھا یا اور ان کو دنیا کے اندر رسوا کیا ﴿وَلَهُمْعَذَابٌاَلِیْمٌ﴾ اور آخرت میں ان کے لیے نہایت الم ناک عذاب ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
لما ذكر تعالى من أوصافه الكاملة العظيمة ما به يُعرف، ويُعبد، ويُبذل الجهدُ في مرضاته، وتُجتنبُ مساخِطُه؛ أخبر بما فعل بالأمم السابقين والقرون الماضين، الذين لم تَزَلْ أنباؤهم يتحدَّثُ بها المتأخرون، ويُخْبِرُ بها الصادقون، وأنَّهم حين جاءتهم رسلُهم بالحقِّ؛ كذَّبوهم، وعاندوهم فأذاقهم الله وَبالَ أمرِهم في الدُّنيا، وأخزاهم فيها. {ولهم عذابٌ أليمٌ}: في الدار الآخرة.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔