تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ التغابن (64) — آیت 18

عٰلِمُ الۡغَیۡبِ وَ الشَّہَادَۃِ الۡعَزِیۡزُ الۡحَکِیۡمُ ﴿٪۱۸﴾
ہر پوشیدہ اور ظاہر کو جاننے والا، سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے۔ En
پوشیدہ اور ظاہر کا جاننے والا غالب اور حکمت والا ہے
En
وه پوشیده اور ﻇاہر کا جاننے واﻻ ہے زبردست حکمت واﻻ (ہے) En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ عٰؔلِمُ الْغَیْبِ وَالشَّهَادَةِ وہ پوشیدہ اور ظاہر کا علم رکھنے والا ہے۔ یعنی وہ ان لشکروں کا علم رکھتا ہے جو بندوں کی نظروں سے غائب ہیں اور وہ ان مخلوقات کا بھی علم رکھتا ہے جن کا وہ مشاہدہ کرتے ہیں ﴿ الْ٘عَزِیْزُ جس کے مقابلے میں کوئی غالب آ سکتا ہے نہ رکاوٹ بن سکتا ہے اور وہ تمام اشیاء پر غالب ہے ﴿الْحَكِیْمُ اپنے خلق و امر میں حکمت والا ہے، جو تمام اشیاء کو ان کے اپنے اپنے مقام پر رکھتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{عالمُ الغيبِ والشهادةِ}؛ أي: ما غاب من العباد من الجنود التي لا يعلمها إلاَّ هو وما يشاهدونه من المخلوقات. {العزيزُ}: الذي لا يغالَب ولا يمانَع، الذي قهر جميع الأشياء. {الحكيمُ}: في خلقه وأمره، الذي يضع الأشياء مواضعها.