تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ التغابن (64) — آیت 14

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِنَّ مِنۡ اَزۡوَاجِکُمۡ وَ اَوۡلَادِکُمۡ عَدُوًّا لَّکُمۡ فَاحۡذَرُوۡہُمۡ ۚ وَ اِنۡ تَعۡفُوۡا وَ تَصۡفَحُوۡا وَ تَغۡفِرُوۡا فَاِنَّ اللّٰہَ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۱۴﴾
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! بے شک تمھاری بیویوں اور تمھارے بچوں میں سے بعض تمھارے دشمن ہیں، سو ان سے ہوشیار رہو اور اگر تم معاف کر و اور درگزر کرو اور بخش دو تو بے شک اللہ بے حد بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔ En
مومنو! تمہاری عورتیں اور اولاد میں سے بعض تمہارے دشمن (بھی) ہیں سو ان سے بچتے رہو۔ اور اگر معاف کردو اور درگزر کرو اور بخش دو تو خدا بھی بخشنے والا مہربان ہے
En
اے ایمان والو! تمہاری بعض بیویاں اور بعض بچے تمہارے دشمن ہیں پس ان سے ہوشیار رہنا اور اگر تم معاف کر دو اور درگزر کر جاؤ اور بخش دو تو اللہ تعالیٰ بخشنے واﻻ مہربان ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اہل ایمان کو تنبیہ ہے کہ وہ اپنی بیویوں اور اپنی اولاد سے دھوکہ نہ کھائیں کیونکہ ان میں سے بعض تمھارے دشمن ہیں۔ اور دشمن وہ ہوتا ہے جو تمھارے خلاف برائی کا ارادہ رکھتا ہو اور تمھارا وظیفہ (ذمہ داری) ایسے شخص سے بچنا ہے جس کی یہ صفت ہو۔ بیویوں اور اولاد کی محبت نفس کی جبلت ہے۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے بندوں کی ایسی محبت کے بارے میں نصیحت کی ہے جو ان کے لیے بیوی اور اولاد کے ایسے مطالبات کے سامنے جھکنے کا موجب بنتی ہے جس میں کوئی شرعی ممانعت ہو۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے احکام کی تعمیل اور اس ثواب عظیم کے لیے اس کی رضا کو مقدم رکھنے کی ترغیب دی ہے جو بلند مطالب اور عالی قدر محبت پر مشتمل ہے اور اس امر کی ترغیب دی ہے کہ وہ آخرت کو ختم ہو جانے والی فانی دنیا پر ترجیح دیں۔
چونکہ ایسے امور میں بیویوں اور اولاد کی اطاعت سے روکا گیا ہے اور ان سے بچنے کے لیے کہا گیا ہے جن میں بندے کے لیے ضرر ہے، اس سے بیوی اور اولاد کے بارے میں درشتی اور سختی متوہم ہوتی ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان سے بچنے اور ان کے ساتھ عفو و درگزر کے ساتھ پیش آنے کا حکم دیا ہے، اس میں بہت سے مصالح ہیں جن کا احاطہ ممکن نہیں، چنانچہ فرمایا: ﴿ وَاِنْ تَعْفُوْا وَتَصْفَحُوْا وَتَغْفِرُوْا فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ اور اگر تم معاف کردو اور درگزر کر جاؤ اور بخش دو تو اللہ تعالیٰ بخشنے والا مہربان ہے۔ کیونکہ عمل کی جزا اس کی جنس ہی سے ہوتی ہے، لہٰذا جو کوئی معاف کر دے، اللہ تعالیٰ اس کو معاف کرتا ہے، جو کوئی درگزر کرے، اللہ تعالیٰ اس سے درگزر کرتا ہے، جو کوئی ایسے امر میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ معاملہ کرتا ہے جو اسے پسند ہے اور اس کے بندوں کے ساتھ ایسا معاملہ کرتا ہے جسے وہ پسند کرتے ہیں اور وہ ان کے لیے فائدہ مند ہے، تو وہ اللہ تعالیٰ کی محبت اور اس کے بندوں کی محبت کو حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے اور اس کے معاملے کی حفاظت کی جاتی ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

هذا تحذيرٌ من الله للمؤمنين عن الاغترار بالأزواج والأولاد؛ فإنَّ بعضهم عدوٌّ لكم، والعدوُّ هو الذي يريد لك الشرَّ، فوظيفتُك الحذرُ ممَّن هذه صفته ، والنفس مجبولة على محبّة الأزواج والأولاد، فنصح تعالى عباده أن توجب لهم هذه المحبة الانقياد لمطالب الأزواج والأولاد، التي فيها محذورٌ شرعيٌّ ، ورغَّبهم في امتثال أوامره وتقديم مرضاته بما عنده من الأجر العظيم، المشتمل على المطالب العالية والمحابِّ الغالية، وأن يؤثِروا الآخرة على الدُّنيا الفانية المنقضية. ولما كان النهيُ عن طاعة الأزواج والأولاد فيما هو ضررٌ على العبد والتحذير من ذلك قد يوهِمُ الغِلْظَةَ عليهم وعقابهم؛ أمَرَ تعالى بالحذر منهم والصفح عنهم والعفو؛ فإنَّ في ذلك من المصالح ما لا يمكن حصرُه، فقال: {وإن تَعْفوا وتَصْفَحوا وتَغْفِروا فإنَّ الله غفورٌ رحيمٌ}؛ لأنَّ الجزاء من جنس العمل؛ فمن عفا؛ عفا الله عنه، ومن صَفَحَ؛ صفح [اللَّه] عنه، ومن عامَلَ الله [تعالى] فيما يحبُّ، وعامل عباده بما يحبُّون وينفعهم؛ نال محبَّة الله ومحبَّة عباده واستوسق له أمره.