تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ التغابن (64) — آیت 13

اَللّٰہُ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ ؕ وَ عَلَی اللّٰہِ فَلۡیَتَوَکَّلِ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ ﴿۱۳﴾
اللہ (وہ ہے کہ) اس کے سوا کوئی معبود نہیں اور اللہ ہی پر پس لازم ہے کہ مومن بھروسا کریں۔ En
خدا (جو معبود برحق ہے اس) کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں تو مومنوں کو چاہیئے کہ خدا ہی پر بھروسا رکھیں
En
اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور مومنوں کو اللہ ہی پر توکل رکھنا چاہئے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ اللہ (وہ ہے کہ) اس کے سوا کوئی معبود (برحق) نہیں۔ یعنی وہ عبادت اور الوہیت کا مستحق ہے اس کے سوا ہر معبود باطل ہے ﴿وَعَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَؔكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ پس اہل ایمان کو ہر معاملے میں جو بھی انھیں پیش آئے، اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرنا چاہیے کیونکہ کوئی معاملہ آسان نہیں ہوتا مگر اللہ تعالیٰ کی مدد سے۔ اور اس بارے میں اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرنے کے سوا کوئی اور چارہ بھی نہیں۔ اللہ تعالیٰ پر بندے کا اعتماد اس وقت تک کامل نہیں ہو سکتا جب تک بندے کا اپنے رب کے ساتھ حسن ظن نہ ہو اور اس معاملے میں اس کے کافی ہونے کا وثوق نہ ہو، جس پر وہ بھروسہ کر رہا ہے۔ اور بندے کے ایمان کے مطابق اس کے توکل میں قوت اور ضعف ہوتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{الله} الذي {لا إله إلاَّ هو}؛ أي: هو المستحق للعبادة والألوهيَّة؛ فكل معبودٍ سواه فباطلٌ. {وعلى الله فليتوكَّل المؤمنون}؛ أي: فليعتمدوا عليه في كلِّ أمرٍ نابهم وفيما يريدون القيام به؛ فإنَّه لا يتيسَّر أمرٌ من الأمور إلاَّ بالله ولا سبيل إلى ذلك إلاَّ بالاعتماد على الله، ولا يتمُّ الاعتماد على الله حتى يُحْسِنَ العبدُ ظنَّه بربِّه ويثق به في كفايته الأمر الذي يعتمد عليه به، وبحسب إيمان العبد يكون توكُّله قوةً وضعفاً.